
خلیج اردو
اسلام آباد:مون سون بارشوں نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید تباہی مچا دی ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش کے دوران چھتیں گرنے کے واقعات میں 30 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں صرف لاہور میں 12 افراد شامل ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد چھت گرنے سے جاں بحق ہوئے۔ مومن پورہ، رائیونڈ، کوٹ جمال پورہ، فیصل آباد، پاکپتن، اوکاڑہ، شیخوپورہ اور رینالہ خورد سمیت دیگر شہروں سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
فیصل آباد میں چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق جبکہ تین بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ احمد پور سیال میں پلر گرنے سے 8 سالہ بچہ جاں بحق ہوا۔ اوکاڑہ میں 12 سالہ بچہ اور شیخوپورہ میں ایک خاتون بھی جان کی بازی ہار گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹھوکر نیاز بیگ میں حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ادھر اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ ایم ڈی واسا کے مطابق راول ڈیم میں پانی کی سطح 1700 ایکڑ فٹ تک پہنچ چکی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 36 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدید بارش، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں فلیش فلڈنگ کا الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ دریائے جہلم اور چناب میں بھی بہاؤ میں اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بلوچستان میں بھی مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 58 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں 11 مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق کھڑی فصلیں بھی ژالہ باری اور بارش سے تباہ ہو گئی ہیں، امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
کشمور میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے، گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب گزشتہ تین دن سے برقرار ہے۔ 382,117 کیوسک پانی کی آمد اور 343,922 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریا کنارے موجود کئی دیہات زیر آب آ چکے ہیں، آئندہ چند گھنٹوں میں مزید خطرہ لاحق ہے۔
مون سون کا موجودہ سپیل کل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ نشیبی علاقوں اور کمزور مکانات میں رہائش سے گریز کریں، اور ہنگامی صورت حال میں مقامی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔






