
خلیج اردو
اسلام آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، جبکہ چلاس میں سیلابی ریلے نے قیمتی جانیں نگل لیں اور سیاحوں کی گاڑیاں بہا لے گیا۔
اسلام آباد میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سید پور میں صرف تین گھنٹوں میں 163 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں نالے بپھر گئے، کئی گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں، ایک پل ٹوٹ گیا اور متعدد نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق گاڑیاں نالے کے کنارے کھڑی تھیں، جنہیں پانی کے تیز بہاؤ نے بہا لیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔
بارش کے بعد دارالحکومت کے کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، جبکہ ایف-10 چوک سمیت مختلف شاہراہوں پر نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ راولپنڈی میں بھی موسلا دھار بارش کے باعث گلیاں اور سڑکیں تالاب بن گئیں، پانی گھروں میں داخل ہو گیا، اور نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 14 فٹ تک پہنچ گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے۔
چلاس میں سیلابی ریلے کے باعث 8 سیاحتی گاڑیاں بہہ گئیں، جن میں سے ایک پولیس وین بھی شامل ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین افراد جاں بحق، چار زخمی اور 15 سے زائد سیاح لاپتہ ہیں۔ شاہراہِ قراقرم بند ہو چکی ہے، ہزاروں سیاح راستے میں پھنس گئے، مواصلاتی نظام بھی متاثر ہو چکا ہے۔ جل کھڈ روڈ بند ہونے سے مسافر اور مقامی افراد مشکلات کا شکار ہیں۔
ادھر جنوبی پنجاب کے علاقوں کوٹ ادو اور تونسہ میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ تونسہ بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ کیوسک تک پہنچ چکی ہے، اور کئی نشیبی علاقے زیر آب ہیں۔ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔
دریائے چناب، دریائے راوی، اور دریائے ستلج کے مختلف مقامات پر بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ دریائے چناب بھوانہ میں سیلابی صورتحال ہے، جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی، ہیڈ مرالہ، اور ہیڈ خانکی پر بھی اونچے درجے کا سیلاب رپورٹ کیا گیا ہے۔
جیکب آباد میں بیگاری کینال سے نکلنے والی لعل شہباز نہر میں دو مقامات پر 40 اور 30 فٹ چوڑے شگاف پڑ گئے ہیں، جبکہ کبیر والا میں ونوئی کینال میں شگاف سے پانی کھیتوں میں داخل ہو گیا ہے۔
محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے، اور تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔






