
خلیج اردو
راس الخیمہ: عید الاضحیٰ کی طویل تعطیلات کے پیش نظر جہاں کئی شہری بین الاقوامی سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، وہیں متحدہ عرب امارات کے اندر موجود شہری شدید گرمی سے بچنے کے لیے تیزی سے راس الخیمہ کے پہاڑی مقام "جبل جیس” کا رخ کر رہے ہیں۔ دبئی اور ابوظہبی کے مقابلے میں یہاں کا درجہ حرارت تقریباً 10 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہوتا ہے، جو 23 سے 30 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایگزیکٹو شاداب مننر، جو النہدہ میں مقیم ہیں، نے بتایا کہ وہ اور اُن کے دوست بغیر کسی منصوبہ بندی کے اتوار کو جبل جیس چلے گئے۔ "ہم صرف ڈرائیو پر نکلے تھے اور شیخ محمد بن زاید روڈ پر سفر کرتے کرتے فیصلہ کیا کہ چلیں جبل جیس دیکھتے ہیں۔ جیسے جیسے ہم اونچائی کی طرف گئے، موسم مزید خوشگوار ہوتا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا: "ہم شام 9:30 بجے تک وہاں بیٹھے رہے، بس خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور خوبصورت مناظر۔ اب ہم نے طے کیا ہے کہ عید پر کزنز اور دوستوں کے ساتھ دوبارہ جائیں گے۔”
دبئی میں کام کرنے والی پی آر ایگزیکٹو، ماریا فرنانڈز نے بھی اسی طرح کا تجربہ شیئر کیا۔ وہ بھی غیر منصوبہ بند طریقے سے جبل جیس گئیں، جب ان کے کزنز ابوظہبی سے ملنے آئے۔ "ہم صرف آئس کریم لینے نکلے تھے، ایک دوست کو کام کے لیے راس الخیمہ جانا تھا تو ہم بھی ساتھ ہو لیے۔ کام ختم ہونے کے بعد ہم نے جبل جیس کا رخ کیا۔”
ماریا کا کہنا تھا کہ جیسے ہی پہاڑی راستے پر پہنچے، فضا میں ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ "ہم نے فلکس میں چائے اور سینڈوچ ساتھ لیے تھے، ایک پوائنٹ پر رک کر خوبصورت منظر میں چھوٹا سا پکنک منایا۔ یہ موسم، خاموشی اور منظر وہ سب کچھ تھا جس کی ہمیں ضرورت تھی مگر ہمیں اس کا علم نہیں تھا۔”
ابوظہبی کے رہائشی زبیر احمد، جو تین بچوں کے والد ہیں، بھی اس بار عید پر اہل خانہ کے ساتھ جبل جیس جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ "ہم دبئی میں بھائی کے گھر دوپہر کا کھانا کھانے جائیں گے اور شام میں سیدھا جبل جیس نکلیں گے۔”
زبیر نے کہا کہ عام طور پر وہ گرمی کی وجہ سے مالز یا ان ڈور سرگرمیوں کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اس بار کچھ نیا کرنے کا ارادہ ہے۔ "میرے کئی دوست حال ہی میں جبل جیس گئے اور سب نے بہت تعریف کی۔ بچوں کو روڈ ٹرپ کا شوق ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ ہم سب کچھ وقت باہر گزاریں – بغیر موبائل، بغیر شور، بس فطرت کے ساتھ






