پاکستانی خبریں

کراچی میں موسلا دھار بارش، ہلاکتیں 19 ہو گئیں، اربن فلڈنگ اور نظام زندگی متاثر

خلیج اردو
کراچی: شہر میں جاری موسلا دھار بارش کے دوران مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔ ہلاکتیں زیادہ تر کرنٹ لگنے، دیواریں گرنے اور ندی نالوں میں ڈوبنے کے باعث ہوئیں، جاں بحق افراد میں دو سگے بھائی، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ گلستان جوہر میں دیوار گرنے سے پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تین بچے اور دو خواتین شامل ہیں، اورنگی ٹاؤن میں دیوار گرنے کے ایک اور واقعے میں ایک بچی جان کی بازی ہار گئی۔ شاہ فیصل کالونی، شارع فیصل، ڈیفنس، نارتھ کراچی اور گزری میں کرنٹ لگنے کے واقعات پیش آئے، جن میں چھ افراد زندگی کی بازی ہار گئے، ان میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جو کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ نیو کراچی، گرومندر اور ندی و نالے سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جو بارش کے دوران ڈوب گئے تھے۔ شہر میں جاری بارش کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ، ٹریفک جام اور نظام زندگی کی معطلی کا سامنا ہے۔

کراچی میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں بشمول کورنگی، نوری آباد، گلشن حدید، گلستان جوہر، ملیر، کھوکھراپار، رزاق آباد، شاہ لطیف ٹاؤن، بھینس کالونی، لانڈھی، گلشن اقبال، اسکیم 33، ڈیفنس، پی ای سی ایچ ایس، شارع فیصل، گڈاپ، سرجانی ٹاؤن اور نیوکراچی میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ نارتھ کراچی، گودھرا، انڈسٹریل ایریا، بفرزون، نارتھ ناظم آباد، گلبرگ، سائٹ ایریا، منگھو پیر روڈ، میٹروول، گارڈن، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، طارق روڈ اور گرو مندر کے اطراف بھی بارش جاری ہے۔ ملیر ندی اور اطراف کے علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد کئی خاندان نقل مکانی کر گئے ہیں۔ شب سومار گوٹھ سمیت نشیبی علاقوں میں 500 گھروں میں بارش کا پانی اب بھی گھروں سے نکالا نہیں جا سکا۔ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو سہارا دے رہے ہیں۔ شدید بارش کے باعث کٹی پہاڑی کے مقام پر پہاڑی تودے سڑک پر گر گئے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سڑک پر بڑے بڑے پتھر گرنے کے سبب ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔

محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہونے والی بارش کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق بدھ کے روز سب سے زیادہ بارش اورنگی ٹاؤن میں 37 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، پی اے ایف بیس میں 32 ملی میٹر، جناح ٹرمینل پر 18 ملی میٹر، کیماڑی میں 13 ملی میٹر، اولڈ ایئرپورٹ پر 11 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر 7.6 ملی میٹر، ڈی ایچ اے میں 8 ملی میٹر، کورنگی میں 6.8 ملی میٹر، پی اے ایف مسرور میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

سندھ کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے جاری موسلا دھار بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ حیدرآباد میں شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، ریلوے سٹیشن کے اطراف کی سڑکیں کئی فٹ پانی میں ڈوب چکی ہیں، متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے ہیں۔ ٹنڈو محمد خان کے علاقے ٹالپور کالونی میں ایک گھر کی چھت گرنے سے تین بچے زخمی ہوگئے۔ ماتلی میں گلیاں اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ سانگھڑ کے مضافاتی علاقوں میں بارش کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ نواب شاہ، میرپورخاص، سجاول، ٹھٹھہ اور مکلی میں بھی بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ میرپورخاص، سجاول اور ٹھٹھہ میں موسلا دھار بارش نے مواصلاتی نظام کو درہم برہم کر دیا۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے فاروق ستار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایم اے جناح روڈ، صدر، گرومندر اور ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں کا معائنہ کیا گیا۔ ناتھا خان میں ٹریفک میں پھنسے شہریوں کو گورنر سندھ نے پانی تقسیم کیا، جبکہ متاثرہ شہریوں سے ملاقات کے دوران کھانا اور راشن بھی فراہم کیا گیا۔ متاثرین کے مسائل سنے اور انہیں ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی گئی۔ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی فراہمی ہے، اور اس وقت ساڑھے 4 ہزار سے زائد افراد چھتوں پر پناہ گزین ہیں۔ مزید کہا کہ کسی صورت کراچی کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، ضرورت پڑی تو حیدرآباد اور میرپورخاص میں کیمپ آفس بنا دیں گے۔ ہم نے 2 ہزار 300 افراد کو ریسکیو کیا، ہم سب کو مل کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اگر ہم بھارت کو جنگ ہرا سکتے ہیں تو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ گھروں کی چھتوں پر رہنے والے ہمیں اپنی لوکیشن بھیجیں، گورنر ہاؤس سے ٹیمیں کھانا اور پانی پہنچائیں گے۔ مشکل کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ میری یونیورسٹی کے طلبا سے اپیل ہے کہ وہ اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کے لیے باہر نکلیں اور مدد کریں۔ شہری بے فکر رہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ معذور بچوں کے لیے گورنر ہاؤس میں انتظامات کر رہے ہیں۔ کے الیکٹرک کے ایم ڈی کو طلب کروں گا۔ ان حالات میں لوگوں کا مایوس نہ ہونا خوش آئند بات ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مختلف علاقوں کا دورہ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کراچی میں شدید بارش ہوئی تاہم ہماری انتظامیہ سڑکوں پر موجود رہی اور نکاسی آب کے کام میں مصروف رہی۔ عوام سے کہا تھا عام تعطیل ہے لیکن پھر بھی عوام نکل نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی ذمہ داری سے بخوبی واقف ہیں اور شہریوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں اور ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ شہریوں کو بارش کے دوران زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

صوبائی حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے بارش کے ساتھ بہہ گئے۔ سالوں کی بدعنوان ترین حکمرانی کل کی بارش میں سامنے آگئی۔ سندھ حکومت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کہتے ہیں جرات مندی کا مظاہرہ کریں اور لوگوں کی تکلیف کا احساس کریں۔ گورنر نے جو وعدہ کیا مشکل کی گھڑی میں لوگوں کے ساتھ رہیں گے وہ نبھایا۔ میں میئر کراچی کو ہدف تنقید نہیں بنا رہا ہوں۔ میئر کہتے ہیں کہ نالے 40 ملی میٹر بارش نکاسی کی گنجائش رکھتے ہیں، کچرا وقت پر اٹھا لیں تو یہ نالے 40 تو کیا 400 ملی میٹر بارش بھی برداشت کر سکتے ہیں۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار اپنی شکایت وزیر اعظم سے رکھیں مگر سندھ حکومت پر بلاوجہ غصہ نکال رہے ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اپنی چالیس سالہ حکمرانی میں کرپشن اور اداروں کی تباہی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ شرجیل انعام میمن نے کراچی کو سندھ کا دل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کو سندھ سے الگ کرنے کا بیانیہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا اور سندھ حکومت نے کراچی میں قابلِ تعریف کام کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے بعد ریسکیو اور ریلیف کا کام جاری ہے اور ایم کیو ایم کو قدرتی آفات میں سیاست سے باز رہنا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے رابطہ، ہر ممکن تعاون کی پیشکش، وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو کراچی میں مکمل طور پر فعال رہنے کی ہدایت دی، خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم سے کراچی میں بارش اور اربن فلڈنگ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، وفاقی اداروں کو شہر میں مکمل طور پر فعال کرنے کی اپیل کی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button