پاکستانی خبریں

کراچی میں موسلا دھار بارش نے شہر کو ڈبو دیا ،،نظام زندگی مفلوج،،،کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں 10 افراد جاں بحق

خلیج اردو
کراچی: منگل کو موسلا دھار مون سون بارشوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کو تباہی کے مناظر میں بدل دیا۔

کم از کم 10 افراد کرنٹ لگنے، ڈوبنے اور دیواریں گرنے کے باعث جاں بحق ہوگئے جبکہ درجنوں علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔

سندھ حکومت نے بدھ، 20 اگست کو عام تعطیل کا اعلان کیا، تمام اسکول اور دفاتر بند کر دیے گئے تاکہ شہریوں کو پانی میں ڈوبی سڑکوں سے دور رکھا جا سکے اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔

خاندان بے یار و مددگار

ملیر سے نارتھ کراچی تک لوگوں نے رات بھر گھروں میں داخل پانی کے ساتھ جدوجہد کی۔ کورنگی کراسنگ اور لیاقت آباد میں شہریوں نے سامان کو بچانے کے لیے فرنیچر اینٹوں اور چارپائیوں پر رکھ دیا۔ بلدیہ ٹاؤن کے عبد الحمید نے کہا: "پانی میرے گھر کے اندر کمر تک پہنچ گیا، بچوں کو ہمسائے کی چھت پر منتقل کرنا پڑا۔”

کئی نشیبی علاقوں میں پانی چار فٹ تک جمع ہو گیا، گاڑیاں چھوڑنی پڑیں اور لوگ گندے پانی میں پیدل چلنے پر مجبور ہوگئے۔ شارع فیصل پر سیکڑوں گاڑیاں بند ہوگئیں، والدین بچوں کو کندھوں پر اٹھائے اور بزرگ دیواروں اور دکانوں کے شٹرز کو پکڑ کر سہارا لیتے نظر آئے۔

امدادی حکام کے مطابق گورو مندر کے قریب نالے میں تین افراد (دو خواتین سمیت) ڈوب گئے، گلستانِ جوہر میں دیوار گرنے سے چار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ نرسری اور ڈیفنس میں کرنٹ لگنے سے دو افراد دم توڑ گئے۔

پروازیں اور بجلی متاثر

طوفانی بارش نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو تقریباً مفلوج کر دیا۔ کم از کم 8 پروازیں منسوخ، 20 تاخیر کا شکار اور کئی طیارے دوسری شہروں کی طرف موڑ دیے گئے۔

بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی، کئی اضلاع تاریکی میں ڈوب گئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی متاثر ہوئیں۔ کے الیکٹرک نے بتایا کہ "عوامی حفاظت” کے پیش نظر پانی میں ڈوبے علاقوں میں بجلی بند کرنی پڑی۔

ایمرجنسی نافذ

میئر مرتضیٰ وہاب نے بارش ایمرجنسی نافذ کر دی، عملے کی چھٹیاں منسوخ کر کے امدادی اور صفائی ٹیموں کو سڑکوں پر بھیج دیا۔ گورنر کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس کو پناہ گاہ بنا دیا اور خود بھی گاڑیاں دھکیلتے نظر آئے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو گھروں میں رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز اور بجلی کے کھمبوں و لٹکتی تاروں سے دور رہنے کی ہدایت دی۔ محکمے نے اگلے 48 گھنٹے "انتہائی نازک” قرار دیے اور 22 اگست تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی۔

شہر کا کمزور نظام

بحران نے ایک بار پھر کراچی کے کمزور نکاسی آب کے نظام کو بے نقاب کر دیا جو صرف 40 ملی میٹر بارش برداشت کر سکتا ہے، مگر ایک دن میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش نے نظام کو تباہ کر دیا۔ میئر وہاب نے اعتراف کیا: "جب تک نالوں کو وسیع نہیں کریں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔”

شہر مزید بارش کے لیے تیار ہے اور شہری دعاؤں اور صبر کا سہارا لے رہے ہیں۔ نارتھ ناظم آباد کی شمیما اختر، تین بچوں کی ماں، نے کہا: "ہمارے پاس نہ بجلی ہے، نہ پانی، اور اب گھروں میں سیلاب آ گیا ہے۔ ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ بارش رک جائے اور کوئی اس مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا ہو۔”

قومی سطح پر رواں سال مون سون کے دوران اموات کی تعداد 660 تک پہنچ گئی ہے، سب سے زیادہ جانی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا ہے، اس کے بعد پنجاب، سندھ اور بلوچستان متاثر ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button