
خلیج اردو
07 اکتوبر 2020
اسلام آباد : اسلام آنباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ اپیلوں میں بذریعہ اشتہار طلب کر لیا ہے ۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو اشتہار کے اخراجات جمع کرانے کا حکم دیدیا ۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اشتہار کے پیسے جمع کرائیں پھر اشتہار جاری کر دیا جائے گا۔ اخبارات میں اشتہارات جاری ہونے کے بعد تیس دن تک عدم پیشی پر اشتہاری قرار دیا جائے گا۔ اشتہار احاطہ عدالت اور نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر چسپاں کئے جائیں گے
اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز اپیلوں پر سماعت کی۔ پاکستانی ہائی کمیشن لندن کے فرسٹ سیکرٹری دلدار علی ابڑو اور راؤ عبدالحنان کے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان قلمبند کیا۔ انہون نے بتایا کہ وارنٹ گرفتاری ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر دو بار بھیجے۔ نواز شریف کے ملازم نے وارنٹ وصول کرنے سے انکار کیا۔
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ عدالت نے وارنٹس کی دفتر خارجہ وصولی، ہائی کمیشن لندن کی ڈاک کی ریسیونگ اور ڈسپیچ رجسٹر طلب کر لیا۔
وقفہ سماعت کے بعد دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ نواز شریف کے وارنٹس موصول ہونے کے ڈائری رجسٹر عدالت میں پیش کئے ۔ عدالتی اسفتسار پر پاکستانی ہائی کمیشن لندن کو بھیجی جانے والی فیکس کا ڈائری ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ۔ نیب پرسکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کی دوسری اپیلیں 9 دسمبر کو سماعت کیلئے مقرر ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ان اپیلوں کو ابھی چھوڑ دیں، شواہد مکمل ہو چکے آج کی جو کارروائی ہے اسکو آگے کیسے چلایا جائے۔ اگر عدالت شواہد سے مطمئن ہو چکی تو اس کے بعد آگے کیا کارروائی ہو گی۔
نیب پرسیکیوٹر عدالت کو بتایا اگر عدالت سمجھتی ہے کہ طریقہ کار مکمل ہو چکا ہے تو نواز شریف کو اشتہاری قرار دے سکتی ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ اشتہار جاری کرنے کا ہے۔ عدالتی استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اشتہار کا خرچہ تو پھر حکومت اٹھائے گی ۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ انگریزی اور اردو کے ایک ایک اخبار میں اشتہار جاری کر دیتے ہیں۔
عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ اپیلوں میں بذریعہ اشتہار طلب کر لیا ۔ حکم دیا کہ اگر تیس دن کے اندر پیش نہ ہوئے تو اشتہاری قرار دیدیا جائے گا۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو اشتہار کے اخراجات جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔






