پاکستانی خبریں

پاک فوج کی پیشہ ورانہ کارروائی، دفاع وطن کے لیے ہر دم تیار رہنے اور دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کی وضاحت

خلیج اردو
پاک آرمی کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ دفاع وطن کے لیے ہر دم تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا اور دشمن کی جانب سے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارا موثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے اور دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کو ویسا ہی جواب دیا جس کے وہ مستحق تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پوری قوم کو اپنے نڈر اور جانباز جوانوں پر فخر ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ پوری دنیا نے دیکھا اور تمام 53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں، دشمن کے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں، اور افغانستان کی 73 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران طالبان رجیم کے 274 اہلکار اور خوارج ہلاک، اور آپریشن غضب للحق میں 400 سے زائد افغان طالبان اور دہشتگرد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں افواج پاکستان کے 12 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت کی کہ کابل، پکتیا، قندھار، پکتیکا، خوست میں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا، پکتیکا میں کور ہیڈکوارٹر تباہ کیا گیا، کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، اور قندھار میں لاجسٹکس بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور خوارج کے جھنڈے احترام کے ساتھ اتارے گئے کیونکہ ان پر کلمہ لکھا ہوا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کرنے اور کروانے والے محفوظ نہیں ہوں گے اور 22 مقامات پر کابل، قندھار، پکتیا، خوست میں ٹارگٹ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری مقامات کو نشانہ بنایا اور کابل کی فضاؤں میں رات گئے جو فائر ورکس ہوئے پوری دنیا نے دیکھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں کو جیسا رسپانس ملنا چاہیے تھا بالکل ویسا ہی دیا گیا اور پاک افواج کے آگے پیچھے، دائیں بائیں اقوام پاکستان کھڑی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں بھی چھوڑ کر فرار ہوئے، آپریشن میں 274 خوارج ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہیں، 73 پوسٹیں مکمل تباہ اور 18 پوسٹوں کو قبضہ میں لیا گیا، اور 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا، پاک فوج کے 12 جوانوں نے شہادت حاصل کی، 27 زخمی اور ایک لاپتہ ہے، اور طالبان رجیم کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں۔

وزیراعظم کو کچھ دیر قبل آپریشن غضب للحق پر بریفنگ دی گئی، جس کا مقصد آپریشن غضب للحق کی تفصیل سے آگاہی تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، 21 اور 22 فروری کی شب پاک افغان بارڈر پر فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، اور ان حملوں نے ثابت کر دیا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور جوابی کارروائی کی، طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹر پراکسی ہے، ماسٹر پراکسی رات کو آئی، 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، اور آپریشن غضب للحق میں اب تک 274 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی افواج فوری اور موثر جوابی کارروائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، افغانستان میں دہشتگردوں کے 22 مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا، اور افغان طالبان اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button