پاکستانی خبریں

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات، مشن نے قول و فعل میں تضاد پر سوالات اٹھا دیے، گورننس اور اینٹی کرپشن اقدامات مضبوط بنانے کا مطالبہ

خلیج اردو
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان حالیہ ورچوئل مذاکرات میں مشن نے حکومت کے قول و فعل میں تضاد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اراکین پارلیمنٹ کو اثاثے ظاہر کرنے سے استثنیٰ دینے کے مجوزہ قانون پر تحفظات بھی اٹھائے ہیں۔

مشن نے چیئرمین نیب سمیت اہم اداروں کے سربراہان کو توسیع نہ دینے اور گورننس اور اینٹی کرپشن اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ساتھ ہی اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے پائیدار اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ مذاکرات میں حکومت نے سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک سے مالی معاونت میں توسیع پر اعتماد میں لیا۔ اس کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ممکنہ تاخیر کے بارے میں بھی مشن کو آگاہ کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان کی مالی پالیسی اور اصلاحات کی رفتار کے حوالے سے اہم سنگ میل ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات سے حکومت پر اصلاحی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button