
خلیج اردو
اسلام آباد، 14 مئی 2025: پاکستان نے بھارتی کوششوں کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے اپنے موجودہ قرض پروگرام کی دوسری قسط حاصل کر لی ہے۔ آئی ایم ایف نے ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کر دیئے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق یہ رقم 16 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملکی ذخائر میں شامل کر لی جائے گی، جس سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئے گی۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قسط جاری کرنے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 9 مئی کو اس رقم کے اجرا کی منظوری دی تھی۔
حکام کے مطابق اس رقم کے حصول سے پاکستان کو اپنے مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے اور معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد ملے گی، جبکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔
دوسری طرف پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اہداف طے کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ سازی کے عمل میں باہمی مشاورت سے اہداف کا تعین کیا جائے گا جبکہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اقتصادی اصلاحات کے سلسلے کو برقرار رکھے گی۔
آئی ایم ایف کا دورہ پاکستان ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد اب آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ دورے کے دوران ابتدائی طور پر تکنیکی مذاکرات ہوں گے جن میں پاکستان کی جانب سے مالیاتی و اقتصادی اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے۔ پالیسی سطح کے مذاکرات میں بجٹ اہداف کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ادھر حکومت نے بجلی سبسڈی کی نئی پالیسی بھی تیار کر لی ہے جس کے تحت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو سبسڈی کا نیا روڈ میپ پیش کر دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کو ہی سبسڈی دی جائے گی جبکہ مراعات یافتہ طبقہ بجلی کی سبسڈی سے محروم رہے گا۔
نئی پالیسی کے تحت بجلی سبسڈی کا مرحلہ وار اقدام 2027 تک مکمل طور پر نافذ العمل ہوگا، جبکہ مالی سال 2027 سے یکساں ٹیرف کے لیے سبسڈی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ یہ منصوبہ جون کے وسط تک وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔






