پاکستانی خبریں

سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کو جنگ تصور کیا جائے گا، پاکستان کا بھارت کو سخت پیغام،تمام دوطرفہ تعلقات معطل

خلیج اردو
اسلام آباد، 24 اپریل 2025
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور دیگر اقدامات کے جواب میں پاکستان نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ اجلاس میں واہگہ بارڈر کی فوری بندش، بھارتی شہریوں کو جاری ویزوں کی منسوخی، سفارتی عملے میں کمی، اور بھارتی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کا اعلان کیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق، پاکستان نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ پانی پاکستان کا بنیادی قومی مفاد ہے اور اس کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

کمیٹی نے بھارت کے 23 اپریل کو کیے گئے اقدامات کو یکطرفہ، غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقصد سیاسی مفادات حاصل کرنا اور کشمیر پر سے توجہ ہٹانا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بھارت کو بغیر کسی ثبوت کے پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف عقلیت سے عاری ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے خطرہ بھی ہے۔

کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق، بھارت کے ساتھ تمام تجارتی روابط فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں، بشمول تیسرے ملک کے ذریعے کی جانے والی تجارت کے۔ سارک ویزا استثنیٰ سکیم کے تحت جاری کردہ تمام بھارتی ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں، تاہم سکھ یاتری اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ بھارتی ہائی کمیشن میں موجود نیول، فضائی اور دفاعی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد 30 اپریل کے بعد 30 افراد تک محدود کر دی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ریاستی جبر، آبادیاتی تبدیلی اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم بڑھ رہا ہے، جس کے باعث کشمیری عوام کی مزاحمت فطری ردعمل ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

کمیٹی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، اور اقلیتوں پر مظالم پر سنجیدہ نوٹس لیا جائے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بھارت کی جارحیت اور الزام تراشی نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے بلکہ یہ اقدامات قائداعظم محمد علی جناح کے خدشات اور دو قومی نظریہ کی سچائی کو مزید واضح کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button