(خلیج اردو ) معروف شیعہ عالم علامہ ضمیر اختر نقوی کا اتوار کی صبح کراچی میں انتقال ہوگیا۔
علامہ کو دل کا دورہ پڑا اور انہیں کراچی کے آغا خان اسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ان کی نماز جنازہ فیڈرل بی ایریا کے امام بارگاہ شہداء کربلا میں ادا کی دی گئی ۔
علامہ ضمیر اختر نقوی 1944 میں ہندوستان کے شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے جہاں انہوں نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی بعد میں 1967 میں کراچی منتقل ہوگئے۔ انہوں نے اردو مضامین اور واقعہ کربلا سمیت مختلف موضوعات پر 28 کتابیں تصنیف کیں۔ علامہ ایک خطیب اور شاعر تھے۔
علامہ نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں جن میں شاعری کی کتب بھی شامل تھیں اسکے علاوہ قاسم بن حسن پر دو جلدوں کی سوانح حیات بھی شامل ہیں۔ ان کی کتاب معراج خطاب پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی تھی اور سائنس ، فلسفہ ، ادب ، ثقافت ، صحافت اور اسلامی تاریخ کا علم رکھتے تھے۔ وہ انیس اکیڈمی کی سربراہی کے علاوہ الکلام میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔
گزشتہ دنوں کرونا وبائی صورتحال میں انکی جانب سے ایک واقع سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کرونا کا علاج انکو معلوم ہیں مگر وہ نہیں بتائں گے کیونکہ لوگ انکا مذاق بنائنگے ۔
علامہ کو اپنے حلقہ احباب میں بہت پذیرائی حاصل تھی یہاں تک کہ ناقدین بھی انکے موضوعات سے فیض یاب ہوتے تھے ۔






