
(خلیج اردو ) خیبر پختون خواہ کے ضلع مامند میں سنگ مرمر کان میں 18 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں ملبے تلے دھب گئے ۔ سنگ مرمر کان پہاڑی تودہ گرنے سے بیٹھ گیا جس میں درجنوں مزرود کام میں مصروف تھے ۔
سنگ مرمر کان میں 18 لاشیں نکالی گئی ہے جبکہ 20 افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتعقل کردیا گیا ہے ۔ اندازہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دو درجن سے زیادہ مزرود اب بھی ملبے تلے دھب گئے ہیں جنکو ریسکیو کرنے کا کام جاری ہے ۔
صوبائی وزیر برائے معدنیات محمد عارف نے بتایا کہ پاک آرمی اور لوکل انتظامیہ ریسکیو کام کررہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جاسکے ۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ ضلع مامند میں سنگ مرمر کی بہت زیادہ کانیں موجود ہے جن میں ہزاروں کی تعداد میں مزدور کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنگ مرمر یہاں کا پوری دنیا میں مشہور ہے اور یہ ان مزدوروں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ مشکل پہاڑ کاٹ کر پتھر نکالے جاتے ہیں ۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہزاروں لوگ سنگ مرمر اور کوئلے کے کانوں میں کام کرتے موت کا شکار ہوتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ نامناسب اختیاطی تدابیر بتائی جاتی ہے ۔
خیبر پختونخواہ جس میں سنگ مرمر کی کانیں بڑی تعداد میں موجود ہے حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مزدوروں کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا جس سے سالانہ ہزاروں افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات، بونیر ،مامند ،باجوڑ،شانگلہ، بنوں اور دیگر علاقوں سے قیمتی پتھر نکالے جاتے ہیں جو پر کارخانوں میں پہنچا کر سنگ مرمر بنانے میں استعمال ہوتے ہیں ۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ واقع اس وقت پیش آیا جب بہت مزدور پہاڑی کے سائے میں بیٹھے تھے اور بارودی دھماکے سے بڑا ملبہ نیچے گرا جس سے مزدور دھب گئے اور کان نیچے بیٹھ گیا جس کی صفائی کا کام جاری ہے اور جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا ۔
Source:Khaleej Times







