
خلیج اردو
راولپنڈی:رات کی تاریکی میں بھارت کی جارحیت کے بعد پاکستان نے دن کی روشنی میں آپریشن "بنیان المرصوص” کے تحت دشمن کو بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے کر اس کے ہوش اڑا دیے۔ پاک افواج کی جانب سے فتح وَن میزائل سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے اندر 12 انتہائی اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا گیا جن میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، سرسہ، سورت گڑھ، برنالہ، بھٹنڈا، سسرام ایئرفیلڈز، براہموس میزائل اسٹوریج سائٹ، جی ٹاپ بریگیڈ ہیڈکوارٹر، ہلوارا ایئرفیلڈ، اڑی میں موجود سپلائی ڈپو شامل ہیں۔
پاک فضائیہ کے جے ایف-سترہ تھنڈر طیاروں نے ہائپر سونک میزائلوں سے حملہ کرتے ہوئے آدھم پور میں بھارت کا جدید دفاعی نظام ایس-چار سو تباہ کر دیا۔ اسی مقام سے بھارت نے پہلے پاکستان، امرتسر اور افغانستان کی سمت میزائل داغے تھے۔ پاکستان نے بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہر نگیاری اور مقبوضہ کشمیر کے نوشہرہ میں واقع بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کے تربیتی مرکز کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کروائی جاتی تھی۔
پاکستانی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر ربتانوالی، ڈنہ پوسٹ، خواجہ بھیک کمپلیکس، پتھیلی ٹاپ اور رنگ کنٹوئر پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پھکلیاں سیکٹر میں بھارتی پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ پاک فوج کی توپوں نے دشمن کی توپوں کو مکمل خاموش کرا دیا۔
دوسری جانب بھارتی فوج نے 26 دفاعی تنصیبات اور ایئربیسز کو پہنچنے والے نقصان کا اعتراف کر لیا ہے۔ نئی دہلی میں بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے تسلیم کیا کہ پاکستانی جنگی طیاروں نے ہائی اسپیڈ میزائلوں سے بھارتی ایئربیسز پر حملے کیے۔ آدم پور اور پٹھان کوٹ میں موجود ایئرفیلڈز کو شدید نقصان پہنچا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کرنل صوفیہ قریشی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان حملوں میں چار ایئرفیلڈز پر فوجی اثاثے اور عملہ متاثر ہوا۔
بھارتی فوج نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی افواج نے اپنے دستے اگلی دفاعی پوزیشنوں پر منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ہر ممکن حملے کے لیے مکمل تیار ہے۔






