پاکستانی خبریں

ان میں کھلاڑی کہاں ہیں ؟ خواتین کرکٹرز کی تصاویر اپلوڈ نہ کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنقید کا سامنا

خلیج اردو
09 اکتوبر 2020
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بورڈ انتظامیہ کو ایک ٹویٹ کے بعد تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جس میں کرکٹ بورڈ کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے خواتین کرکٹ ٹیم کے حوالے سے اپڈیٹ دی گئی ہے۔

اس ٹویٹ میں بورڈ کی جانب سے خواتین کے پیک شدہ بیگز کی تصاویریں دیکھائی گئیں ہیں اور کاپشن میں لکھا ہے کہ ہماری خواتین کرکٹرز کراچی میں سفر کیلئے تیار ہیں جہاں وہ اعلی سطح کی قومی کارکردگی کیمپ میں حصہ لے گی۔

بورڈ کی جانب سے اس ٹویٹ کے ساتھ سپورٹس بیگز کی تصاویروں تو موجود ہیں لیکن خواتین کرکٹرز کی تصاویریں نہیں ہیں ۔ اس بات کو لے کر سوشل میڈیا پر لوگوں تنقیدی تبصرے کررہے ہیں ۔ کچھ لوگ طنز میں پی سی بی سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا خواتین ان بیگز کے اندر ہیں ؟ یا یہ نئے برقعے ہیں جو بورڈ والوں نے کرکٹرز کی حفاظت کیلئے تیار کیے ہیں۔

صارفین میں سے اکثریت کرکٹ بورڈ کے اس رویے پر نالاں ہیں۔ وہ اسے خواتین کی حوصلہ شکنی کا اقدام قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ طنزیہ تبصروں میں بورڈ کو صنفی بنیادوں پر کرکٹرز میں امتیاز برتنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

اس حوالے سے پی سی بی کے ترجمان سمیع الحسن برنی سے موقف لینے کیلئے خلیج اردو نے رابطہ کیا تو انہوں نے فون کال کا جواب نہیں دیا۔

خواتین کرکٹ ٹیم کو صنفی بنیادوں پر عدم مساوات کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات ماضی میں دیکھنے میں آئے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے سپورٹس چینل کی جانب سے ان کے کرکٹ میچ کو اکثر لائیو نہیں دیکھایا جاتا۔ پاکستان کے آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی اس حوالے سے ٹی وی پر خواتینن کے کرکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ خواتین کاکام کچن میں کھانا پکانا ہے۔

پاکستان دنیا بھر میں صنفی مساوات کے حوالے سے 153 ممالک کی فہرصت میں 151 ویں نمبر پر ہے۔ ایسے میں خواتین کرکٹ ٹیم کے حوالے سے بورڈ کے رویے کو افسوسناک قرار دیا جارہا ہے۔ خواتین کے پہناوے ، ان کے میڈیا شوبز انڈسٹری کردار کو لے کچھ عناصر انہیں فحاشی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

حال ہی میں ایک بسکٹ کمپنی کے اشتہار میں صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکارہ مہویش حیات کے ڈانس کو لے کر کافی عدم برداشت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ مہویش حیات کی جانب سے اشتہار میں ملک کی مختلف ثقافتوں کی ترجمانی کرنے کی کوشش کو مجرا قرار دے کر ایک سنیئر صحافی انصار عباسی نے پاکستان الکیٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا سے اشتہار پر پابندی کا مطالبہ کیا جس کے بعد ان کے ہم خیال افراد نے ان کی تائید کی۔

پیمرا نے ایکشن لیتے ہوئے اس اشتہار پر یہ کہہ کر پابندی لگائی کہ اس حوالے سے لوگوں کی کافی شکایات آرہی تھی اور اس حوالے سے عوام میں غصہ پایا جارہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button