
خلیج اردو
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے ارکان تاحال حلف نہیں اٹھا سکے، اس لیے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کسی موزوں شخصیت کو حلف کیلئے نامزد کریں۔
درخواست پشاور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو جمع کرائی گئی۔ ادھر گزشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کورم کی نشاندہی پر بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دیا گیا۔ حکومتی رکن نے اجلاس کے آغاز میں ہی کورم کی نشاندہی کی جس پر اپوزیشن کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ تلاوت سے پہلے کورم کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔ سپیکر بابر سلیم سواتی نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے ایوان میں گھنٹیاں بجوائیں، تاہم گنتی مکمل نہ ہونے پر اجلاس 24 جولائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
پیپلز پارٹی کی ثوبیہ بی بی نے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر نئے ارکان کی حلف برداری نہیں ہونے دے رہی، جب کہ احمد کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ کھلواڑ کیا۔
اس صورتحال پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی نابالغ قیادت نے جمہوری اور پختون روایات کو پامال کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خواتین کو حلف برداری سے محروم رکھ کر ناپختگی کا مظاہرہ کیا گیا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ آئینی بحران ختم کرنے کیلئے خود یا کسی موزوں شخصیت کو نامزد کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عباد کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی خود تماشہ بنی ہوئی ہے اور پورے صوبے کو تماشہ بنا دیا ہے۔ ان کے بقول پارٹی کے اندر ہر شخص اپنی الگ جماعت بنا کر چل رہا ہے۔ بیرسٹر گوہر چیئرمین ہوکر فیصلوں سے لاعلم ہوتے ہیں اور جب بات آئینی مقاصد کی ہو تو رات 12 بجے اجلاس بلانے والے آئین سے کھلواڑ کرتے ہیں۔






