
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں زرعی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان کو زرعی خودکفالت کے حصول کے لیے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ معیشت کی فوری ترقی ممکن ہو سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو زرخیز زمین، ماہر زرعی سائنسدانوں اور محنتی کسانوں سے نوازا ہے، اس لیے زرعی شعبے کی وسیع استعداد کو بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی تحقیق پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے پائیدار اور طویل مدتی زرعی اور صنعتی ترقی کی پالیسی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ زراعت کے ساتھ ساتھ جنگلات کو فروغ دے کر ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے متعلقہ فریقین کی مشاورت سے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مربوط حکمت عملی بنانے اور اس میں صوبوں سے مشاورت کو بھی یقینی بنانے کی تاکید کی۔ انہوں نے زرعی شعبے کے لیے نیشنل ایگری انوویشن پلان پیش کرنے کی ہدایت دی اور زرعی بیجوں کے سرٹیفیکیشن کے نظام میں اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کا حکم دیا۔ اعلیٰ معیار کے بیجوں کے فروغ کے لیے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کو بھی ترجیح قرار دیا گیا۔
مزید برآں، وزیراعظم نے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا اور جامع ریگولیٹری فریم ورک ترتیب دینے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں زرعی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے بنائے گئے ورکنگ گروپ کی جانب سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔






