
خلیج اردو
اسلام آباد/انقرہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں خطے کی سنگین صورتحال، خاص طور پر ایران پر اسرائیل کی بلااشتعال اور بلاجواز جارحیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیلی فضائی حملے نہ صرف ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ ان حملوں سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی جاری وحشیانہ فوجی کارروائیوں کی بھی شدید مذمت کی، جو مکمل استثنیٰ کے ساتھ جاری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی اس جارحانہ روش اور غیرقانونی اقدامات کو فوری طور پر روکنے کے لیے مشترکہ مؤقف اپنائیں اور متحرک کردار ادا کریں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا، چاہے وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ہو یا اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جیسے دیگر فورمز کا حصہ۔
وزیراعظم نے صدر اردوان کو مطلع کیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار آئندہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے یوتھ فورم (ICYF) کی جانب سے صدر اردوان کو اعزاز سے نوازے جانے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی صورتحال میں اپنی اپنی سفارتی کوششوں سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ امن کے لیے قریبی رابطے اور ہم آہنگی جاری رکھی جائے گی۔






