
خلیج اردو
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک غیر معمولی اجلاس میں ریاستی رِٹ اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت وفاق کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرے گی۔ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث تمام افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا گیا، جبکہ پولیس افسران کی شہادت اور سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں و کارکنوں کے خلاف مقدمات دہشت گردی کی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ انتہا پسند جماعت کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی افغان باشندوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا تیار کیا جائے گا، انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا، اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ’وہسِل بلوئر‘ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جس میں اطلاع دینے والے کا نام مکمل رازداری میں رکھا جائے گا۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی رہائشیوں اور ان کے کاروباروں کے خلاف کومبنگ آپریشن شروع کرنے اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو فوری ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
اجلاس میں غیر قانونی اسلحے کی بازیابی کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ایک ماہ کا الٹی میٹم جاری کیا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مدت میں اپنا قانونی اسلحہ خدمت مرکز سے رجسٹر کرائیں، جبکہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا میں اضافہ کرتے ہوئے اسے ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا۔ اب غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔ مزید برآں، اسلحہ فروشوں کے اسٹاک کا معائنہ کیا جائے گا، نئے لائسنسوں کے اجرا پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی، اور وفاق سے اسلحہ فیکٹریوں اور مینوفیکچررز کو ریگولرائز کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔






