
خلیج اردو
لاہور – سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل کی زیر صدارت اہم اجلاس میں صوبے میں جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت عادی مجرموں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو ٹریکنگ ڈیوائسز پہنائی جائیں گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ، پیرول ڈیپارٹمنٹ اور نئے تشکیل شدہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو مجموعی طور پر 1500 دستیاب ٹریکنگ ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو 500، سی ٹی ڈی کو 900 جبکہ پیرول ڈیپارٹمنٹ کو 100 ٹریکنگ بینڈز دیے جائیں گے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ہدایت دی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ٹریکنگ ڈیوائسز کو مؤثر طور پر استعمال کریں اور مزید جدید ڈیوائسز درآمد کی جائیں۔ یہ بینڈز مجرمان کی نقل و حرکت پر چوبیس گھنٹے نظر رکھنے میں معاون ہوں گے۔
اجلاس میں شریک ماہرین نے مجرمان کی بلا تعطل نگرانی کے لیے مائیکرو ٹریکنگ چپ نصب کرنے کی سفارش بھی پیش کی۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے اس فیصلے کو عالمی معیار کی جرائم کی نگرانی کی تکنیکوں سے ہم آہنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔






