
خلیج اردو
اسلام آباد، 17 جولائی 2025
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و پارلیمانی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ
پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سے تبدیلی آنا ضروری ہے، اور ریاستی نظام کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی کہانیاں بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے خود چھ ٹکٹ جاری کیے ہیں اور اپوزیشن کو پانچ سیٹیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’آر یا پار‘‘ کی تحریک دراصل ملک میں انارکی پھیلانے کی ایک سازش ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مشیر وزیراعظم نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل سے دیے گئے پیغامات انارکی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور حکومت ریاستی اداروں اور نظام کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کے بقول اگر احتجاج پرامن رہا تو حکومت رکاوٹ نہیں ڈالے گی، تاہم تشدد کی صورت میں بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
رانا ثنااللہ نے انکشاف کیا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کی تمام میٹنگز کی اطلاعات حاصل ہیں اور پانچ اگست کو کسی بڑے کلائمکس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی اندرونی اختلافات خود ان کے لیے پریشانی کا باعث ہیں اور ان کی تقسیم میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور صدر مملکت کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں سیاسی، سیکیورٹی اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے صدر کو دہشتگردی کی موجودہ صورتحال پر بھی اعتماد میں لیا۔
مہنگائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عوامی ردعمل فطری ہے لیکن آئی ایم ایف معاہدے کی مجبوری کے باعث حکومت سبسڈی نہیں دے سکتی۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ اگلے بجٹ تک آئی ایم ایف سے نجات حاصل کی جائے۔
چینی بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چینی کی برآمد کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سٹاک وافر تھا، لیکن بعد میں شارٹیج پیدا ہوئی۔ اب چینی درآمد کر کے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر قیمتیں کنٹرول میں آ گئیں تو درآمد کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ حکومتی پالیسی پر تنقید جمہوریت کا حسن ہے اور پارٹی رہنماؤں کے سوالات حکومت کی توجہ دلاؤ مہم کا حصہ ہیں۔ گورنر کے کردار پر انہوں نے کہا کہ وہ آئینی عہدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ حکومت کا نمائندہ بھی ہوتا ہے، اس لیے اس کی سرگرمیاں مکمل طور پر غیرسیاسی نہیں ہو سکتیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی صوبے میں اپوزیشن کے پاس ووٹ زیادہ ہوں تو وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا، اور اگر وہ اعتماد کھو دے تو استعفیٰ دینا آئینی تقاضا ہوگا۔







