
خلیج اردو
11 ستمبر 2020
اسلام آباد: حویلیاں میں طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دونوں پائلٹس کے لائسنس فورینزک تحقیقات میں مشکوک قرار دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ کی ایوی ایشن کی ذیلی کمیٹی نے پائلٹس کے مشکوک لائسنس معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی سے ان کیمرہ بریفنگ لینے کا فیصلہ کرلیا۔
سینیٹر مصطفٰی کھوکھر کی زیر صدارت سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ایوی ایشن کے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سول ایوی ایشن، پالپا اور پی آئی اے حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری سول ایوی ایشن نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پائلٹس کی ڈگریوں کی چھان بین اور جعلی لائسنس سے متعلق فورینزک آڈٹ مکمل کرلیا گیا ہے۔
پائلٹس کی نمائندہ تنظیم پالپا کے نمائندے کیپٹن وقاص نے اجلاس کو بتایا کہ تحقیقات میں 141 پائلٹس کے لائسنسز کو جعلی قرار دے دیا گیا ہے جن میں پندرہ پائلٹس ریٹائر ہو چکے ہیں۔ 20 پائلٹس کبھی پی آئی اے میں رہے ہی نہیں جبکہ پینتالیس پائلٹس کے لائسنس امتحان کی تاریخ سے متعلق غلط فہمی کی بنیاد پر جعلی قرار دیئے گئے۔
کیپٹن وقاص نے بتایا کہ حویلیاں طیارہ حادثے میں جاں بحق پائلٹس کے نام جعلی لائسنس والی فہرست میں تحقیقاتی رپورٹ سے قبل شامل کرنامناسب نہیں۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے تحقیقات میں پائلٹس کا موقف نہ سننے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائلٹس کے مشکوک لائسنس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ طلب کی جس پر ڈی جی سول ایوی ایشن نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ تاحال کسی سطح پر پیش نہیں کی گئی ہے اسی لیے کمیٹی میں پیش نہیں کرتے۔
چیئرمین کمیٹی مصطفٰی کھوکھر نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ دیکھے بغیر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔ قومی سلامتی کے علاوہ کمیٹی سے کوئی معاملہ خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔
ذیلی کمیٹی نے تحقیقاتی کمیٹی سے بریفنگ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے فورینزک رپورٹ ان کیمرہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
یاد رہے کہ پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ پی کے 661 سات دسمبر 2016ء کو حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا جس میں عملے سمیت 47 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حادثے میں معروف گلوکار اور مبلغ جنید جمشید بھی جاں بحق ہوئے تھے۔







