
خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 9 مئی کے مقدمے سے پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کی بریت کے خلاف دائر اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اہم سوالات اٹھا دیے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ "عورت ہے، اس کا جسمانی ریمانڈ کیوں درکار ہے؟”
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے صنم جاوید کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ قابل غور ہے کہ کیا محض ریمانڈ پر اعتراض کی بنیاد پر مقدمے سے ڈسچارج کیا جا سکتا ہے؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانونی نکات کا بغور جائزہ لیا جائے گا، اور اس بات کا تعین ضروری ہے کہ کسی ملزم کو مقدمے سے بری کرنے کی بنیاد صرف جسمانی ریمانڈ کی مخالفت ہو سکتی ہے یا نہیں۔
عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ملتوی کر دی۔






