پاکستانی خبریں

تماری جرآت کیسے ہوئی مجھے چرسی کہنے کی، ایمل ولی خان سے چرس مانگنے پر سینٹ کمیٹی میں جھڑپ، ایمل ولی خان چیئرمین پی ٹی اے پر برس پڑے

سینیٹ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے اور ایمل ولی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، چیئرمین کو اجلاس سے جانا پڑا

خلیج اردو
اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان اور سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان شدید تلخی پیدا ہو گئی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے ایمل ولی پر چرس کا سگریٹ پینے کا طنزیہ الزام عائد کیا، جس پر سینیٹر ایمل ولی بھڑک اٹھے اور اس طرز عمل کو غیرمہذب اور ناقابل قبول قرار دیا۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ وہ کسی منتخب نمائندے پر ایسے الزامات عائد کرے۔ انہوں نے چیئرمین پی ٹی اے سے شدید احتجاج کیا اور قائمہ کمیٹی سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "یا چیئرمین اجلاس میں رہے گا یا میں”۔ نتیجتاً چیئرمین پی ٹی اے کو اجلاس چھوڑنا پڑا۔

چیئرمین کمیٹی آغا شاہ زیب درانی نے چیئرمین پی ٹی اے کے رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف ایمل ولی خان نہیں بلکہ پوری کمیٹی کی توہین کی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس واقعے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور سیکرٹری آئی ٹی کو معاملے کا نوٹس لینے کی ہدایت دی۔

اجلاس کے دوران سینیٹر ایمل ولی نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سہولیات کی عدم فراہمی پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن اضلاع میں سروسز بند ہیں کیا حکومت انہیں دہشت گرد سمجھتی ہے؟ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے بھی اس تشویش کا اظہار کیا کہ کئی علاقوں میں امن و امان کا مسئلہ نہ ہونے کے باوجود وہاں انٹرنیٹ کی سہولیات دستیاب نہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے اور بارہا لاعلمی کا اظہار کرتے رہے۔ سینیٹر ایمل ولی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد بندوق بھی استعمال کرتے ہیں، تو کیا اسلحہ کی سہولیات بھی بند کی جائیں؟

سی ای او یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کی جانب سے بتایا گیا کہ بلوچستان میں 30 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، تاہم چیئرمین کمیٹی نے انکشاف کیا کہ یو ایس ایف کے 50 فیصد منصوبے غیر فعال ہیں اور اس کی وجہ سیکیورٹی نہیں بلکہ دیگر عوامل ہیں۔ کمیٹی نے مکمل شدہ منصوبوں کی مانیٹرنگ نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کی، جس میں یو ایس ایف کے بورڈ فریم ورک اور منصوبوں سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ یو ایس ایف کے سی ای او کو ایک سے زائد مرتبہ تقرری کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button