پاکستانی خبریں

سینیٹر عون عباس پروڈکشن آرڈر پر سینیٹ میں پیش، اعجاز چوہدری کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد۔ چیئرمین سینیٹ کی رولنگ، پی ٹی آئی سینیٹرز کا احتجاج

خلیج اردو
اسلام آباد: سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر عون عباس پروڈکشن آرڈر پر پیش ہوئے، جبکہ پی ٹی آئی کے ہی سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ ہونے کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

عون عباس نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کے مشکور ہیں جنہوں نے ان کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا، تاہم اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اعجاز چوہدری کو ایوان میں پیش نہیں کیا جاتا تو وہ بھی یہاں نہیں آئیں گے اور واپس جیل جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 6 مارچ کی صبح 20 افراد نے دفتر اور گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا، ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور انہیں کالر سے پکڑ کر گھسیٹا گیا۔

عون عباس نے مزید کہا کہ انہیں گرفتار کرنے کی وجہ مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ وفاداری تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر قانون کی مداخلت کے بعد ان پر سختیاں کم ہوئیں، جس پر انہوں نے وزیر قانون اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اجلاس میں رولنگ دی کہ عون عباس اور اعجاز چوہدری کی گرفتاری سے متعلق انہیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کر کے اتھارٹی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے۔

ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ جیل میں مشکلات ضرور ہوتی ہیں لیکن وہاں تشدد کی کہانیاں نہ سنائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر عمل ہونا چاہیے، اور اگر وہ اراکین کے استحقاق سے متعلق کوئی رولنگ دیتے ہیں تو پورا ایوان ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر تکبر میں تھے اور دوسروں کو دھمکیاں دیتے تھے، مگر ہم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جب وہ جیل میں ہیں تو انہیں اپنے تکبر پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیڈر سی کلاس جیل کی دھمکیاں دیتے تھے، مگر انہیں سی کلاس نہیں دی گئی۔

شبلی فراز نے حکومتی ردعمل پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاست کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے جسے ووٹ دیا، اسے حکمرانی کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے یاسمین راشد کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو سال سے کینسر کے باوجود جیل میں ہیں اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔

اجلاس کے دوران پی ٹی آئی سینیٹرز نے ایوان سے واک آؤٹ کی کوشش کی، تاہم چیئرمین سینیٹ نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے کہا کہ قید سیاستدانوں کا زیور ہے، وہ خود نو سال جیل کاٹ چکے ہیں جبکہ نواز شریف نے مجموعی طور پر چار سال جیل میں گزارے ہیں۔

سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹرز نے اپنی جماعت کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے پر زور دیا، جبکہ حکومت نے اس معاملے کو قانونی اور آئینی دائرے میں دیکھنے کی بات کی۔ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ معاملہ استحقاق کمیٹی میں بھیجا گیا، جہاں اس پر مزید غور کیا جائے گا۔

سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سینیٹ میں ہونے والی یہ گرما گرم بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button