
خلیج اردو
اسلام آباد : فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ سات رکنی آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دیا گیا مگر اپنے شہریوں کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کو صرف ویانا کنونشن کے تحت کونسلر رسائی دی گئی تھی، جسے اپیل کا حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کلبھوشن ہو یا کسی اور ملک کا شہری، کونسلر رسائی سب کے لیے ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کلبھوشن یادیو آیا تو بھارت سینڈنگ اسٹیٹ کہلائے گا، چاہے بھارت مانے یا نہ مانے، ہم اسے بھیجنے والا ملک کہیں گے۔
خواجہ حارث نے آگاہ کیا کہ آرمی ایکٹ میں ایف آئی آر کا کوئی تصور نہیں اور تفتیش کورٹ آف انکوائری کے تحت کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت غیر ملکی شہریوں کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہوتا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ اگر ملزم اپنی مرضی سے وکیل مقرر نہ کر سکے تو کیا حکومت ان کے لیے وکیل فراہم کرتی ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ہاں، ایسی صورت میں حکومت سرکاری وکیل کی سہولت دیتی ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے اور خواجہ حارث کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔






