پاکستانی خبریں

کراچی: کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی تلاش جاری، شہری کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کارروائیاں جاری

خلیج اردو
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں رات کے وقت ایک کھلے مین ہول میں گرنے والا تین سالہ ابراہیم ابھی تک نہیں ملا۔ رات سے اب تک پانچ مختلف مقامات پر کھدائی کے ذریعے بچے کی تلاش کی جا رہی ہے، تاہم متعلقہ محکموں کی غیر موجودگی کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور علاقے میں تلاش کا عمل جاری رکھا۔ بچے کے اکلوتے بیٹے سے محروم ماں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی مشینری نہ پہنچنے پر شہریوں نے احتجاج کیا اور نیپا چورنگی سے حسن سکوائر جانے والی سڑک بند کر دی، گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، اور مظاہرین نے میڈیا کی گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا۔ ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کو بھی احتجاج کے دوران واپس آنا پڑا۔

رواں سال شہر قائد میں 5 بچوں سمیت 24 افراد کھلے مین ہولز میں گرنے سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

واقعے کے والد نے بتایا کہ وہ شاپنگ کے لیے نکلے تھے، بچے نے ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور موٹر سائیکل کے قریب کھلے مین ہول میں گر گیا۔ والدین نے کہا کہ "ہمیں کچھ نہیں چاہیے بس ہمارا بچہ ہمیں واپس کردیں۔”

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا کہ واقعے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بچے کی تلاش جاری ہے، ماں باپ کی تڑپ کا احساس ہے، اور معاملے پر سیاست کرنا بدقسمتی ہے۔

واٹر بورڈ کے ایم ڈی کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا، تاہم واٹر کارپوریشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ واقعے کی جگہ پر ان کا کوئی سسٹم موجود نہیں تھا، نہ سیوریج لائن اور نہ ہی واٹر کارپوریشن کا کوئی مین ہول موجود ہے۔ برساتی نالوں کی دیکھ بھال، مرمت اور صفائی کے امور بھی واٹر کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button