
خلیج اردو
پشاور: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گندم کی قیمت میں فی من 100 روپے کمی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ملک بھر کے کسانوں کو مجموعی طور پر 75 ارب روپے جبکہ صرف پنجاب کے کسانوں کو 50 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مجموعی نقصان کا تخمینہ 3 ارب 2 کروڑ روپے روزانہ بنتا ہے، جو ملکی زرعی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو حکومت کو مستقبل میں گندم درآمد کرنا پڑے گی، جو معیشت پر مزید بوجھ ڈالے گا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی زرعی معیشت بدترین دور سے گزر رہی ہے، حالانکہ کسی قدرتی آفت کا سامنا نہیں ہے، اس کے باوجود حکومتی پالیسیوں سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول سستا نہ کرنا عوام دشمنی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس وقت معیشت کی شرح نمو کم ہو رہی ہے اور زرعی میدان میں حکومتی بے حسی نے کسانوں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔






