خلیج اردو آن لائن:
خلیج ٹائمز کے ایک قاری نے خبررساں ادارے کو لکھا کہ "میں 2017 سے دبئی میں ایک کمپنی کے پاس ملازم ہوں۔ گزشتہ جون کو مجھے دل کا دروہ پڑنے کے باعث اینجوپلاسٹی کروانی پڑی۔ تاہم آپریشن سے پہلے مجھے پتہ چلا کہ میری کمپنی نے میری ہیلتھ انشورنس رینیو نہیں کراوائی اور ویزے کی تجدید کے دوران ایک نقلی ہیلتھ انشورنس پیش کر دی تھی۔ اب مجھے تین ماہ تک اپنا طبعی معائنہ کروانا ہے اور دوائیاں استعمال کرنی ہیں۔ یہ اخراجات کس کو برداشت کرنے چاہیئں؟ کیا ہماری ہیلتھ انشورنس رینیو نہ کروانے کی وجہ سے آجر کے خلاف کوئی کاروائی کی جا سکتی ہے؟
جواب:
ہم فرض کرتے ہیں کہ آپ دبئی میں واقع کسی کمپنی کے ملازم ہیں۔ لہذا (آپ کے کیس میں) متحدہ عرب امارات میں ملازمت سے متعلق معاملات کے 1980 کے وفاقی قانون نمبر 8 کی دفعات اور اس کے بعد کے وزارتی احکامات کا اطلاق ہوتا ہے۔ دبئی میں اپنے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرنا آجر کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ دبئی ہیلتھ انشورنس لاء کے آرٹیکل 10 کے مطابق ہے۔
اس قانون کے مطابق آجر درج ذیل باتوں کا پابند ہے:
1۔ متعلق ہیلتھ انشورنس پالیسی کے مطابق ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرے گا
2۔ اس طرح کی ہیلتھ انشورنس حاصل کرنے والوں کی بجائے (آجر) خود اس بیمہ کے اخراجات برداشت کرے گا۔
3۔ تصدیق کریں کہ ملازمین کی ہیلتھ انشورنس ان کی مدت ملازمت دورانیہ تک موزوں ہے۔
4۔ اگر کسی ملازم کے پاس اس قانون کی دفعات کے مطابق ہیلتھ انشورنس نہیں ہے تو (آجر) ہنگامی حالت میں اس ملازم کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کرے گا۔
5۔ ملازمین کو انکے ہیلتھ انشورنس کارڈ دینے ہوںگے۔
6۔ ملازمین کو رہائشی (ویزا) ملنے پر اور تجدید پر ہیلتھ انشورنس پالیسی دی جائے
7۔ اس کے علاوہ آجر جاری کردہ قرار دادوں کے مطابق حکام کی طرف متعین کردہ کوئی بھی دوسری ذمہ داری پوری کرنے کے پابند ہیں۔
مزیدبرآں، لیبر لاء کے آرٹیکل 96 کے مطابق "آجر کو ملازمین کو طبعی امداد کی سہولیات گراہم کرنا ہوں گی”۔
لہذا، ان دفعات کی بنیاد پر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ آپ کی مدت ملازمت کے دوران آپ کے آجر یا کمپنی آپ کو ہیلتھ انشورن مہیا کرنے کی پابند ہے۔ دبئی ہیلتھ انشورنس لاء کے آرٹٰیکل 23 کے مطابق اگر آجر ملازمین کو ہیلتھ انشورنس مہیا نہیں کرتا تو متعلقہ ادارے یا دبئی ہیلتھ اتھارٹی 500 درہم سے ڈیڑھ لاکھ درہم تک کے جرمانے عائد کر سکتی ہے۔
اور اگر آجر بار بار قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ جرمانے 5 لاکھ درہم تک جا سکتے ہیں۔
لہذا آپ اپنی کمپنی سے اپنے آپریشن اور علاج پر اٹھنے والے دیگر اخراجات ادا کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔ اور انہیں کہیں کہ آپ کو ایک اصل ہیلتھ انشورنس مہیا کریں۔
اور اگر آپ کا آجر ایسا کرنے سے انکار کرتا ہے تو آپ آجر کے خلاف شکایت درج کروانے کے لیے وزارت ہیومن ریسورس اور دبئی ہیلتھ اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔
Source: Khaleej Times







