ٹپس / سٹوری

گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمانے کے 7 بہترین طریقے

آن لائن کمائی کرنے کے لیے آپ کو صرف ایک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ضرورت ہوگی

 

خلیج اردو آن لائن: کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر میں کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ جس کے باعث لاکھوں لوگوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا  ہے۔ کورونا کے باعث صحت کے ساتھ ساتھ مالی مسائل کو شکار ہو رہے ہیں۔

کئی لوگ دوسرے ملکوں میں پھنس جانے کے باعث روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے اور لاکھوں کاروبار ٹھپ ہونے کی وجہ سے نوکریوں سے نکال دیا گیا۔  اور کچھ لوگ بغیر تنخواہ کے یا کم تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہوئے۔

خدانخواستہ اگر آپ بھی ایسی کسی صورتحال کا شکار ہیں تو اس مضمون کچھ ایسے آن لائن طریقوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن کی مدد سے آپ گھر بیٹھے کچھ نہ کچھ کمائی کر سکتے ہیں۔

آن لائن کمائی کرنے کے لیے آپ کو صرف ایک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ضرورت ہوگی۔

آن لائن کمائی کے ذرائع درج ذیل ہیں:

1۔ اپنا علم یا مہارت دوسروں کے ساتھ بانٹیے اور پیسے کمائیے

اگر آپ اپنا علم یا مہارت دوسرے لوگوں کے تک پہنچانا چاہتے ہیں اور ساتھ میں کچھ پیسےکمانے چاہتے ہیں تو درج ذیل ویب سائٹس ڈاکٹروں، انجینئروں اور دیگر ماہرین کو انکی فیلڈ میں دوسروں کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب دینے کے عوض معاوضہ ادا کرتی ہیں۔

ویب سائٹس درج ذیل ہیں:

  • JustAnswer
  • PrestoExpert
  • Maven

ان ویب سائٹس پر آپ اپنی مرضی کے اوقات کار میں دوسروں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات میں سے اپنی مرضی کے سوالات کا انتخاب کر کے جواب دے سکتے ہیں۔ اور اس جواب کی بدولت آپ 20 سے 100 ڈالر تک کما سکتے ہیں۔

2۔ پیسوں کے لیے دوسروں کی ویب سائٹس کو ٹیسٹ کرنا

کچھ ایسی ویب سائٹس بھی ہیں جو فیڈ بیک دینے کے پیسے دیتی ہیں۔

جیساکہ

  • UserTesting
  • Userbrain
  • Lookback

درج بالا ویب سائٹس کو ایسے لوگوں کی تلاش ہوتی ہے جو  فیس بک جیسی ویب سائٹ کے نئے فیچرز کو ٹیسٹ کر  سکیں۔ آپ صرف ان ویب سائٹس میں سائن اپ کرنا اور ٹیسٹ کرنا اور بدلے میں کچھ پیسے لینے ہیں۔

3۔ کتاب لکھیے اور خود سے ہی آن لائن شائع کریں اور پیسے کمائیں

اگر آپ ایک اچھے مصنف ہیں اور کتاب لکھ چکے ہیں یا لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی لکھی کتاب کو آپ اب بہت آسانی سے شائع کر سکتے ہیں اور کچھ ہی وقت میں لاکھوں لوگوں آپ کی کتاب پہنچ جائے گی۔

آن لائن کتاب شائع کرنے کےلیے آپ Kindle Direct Publishin  کا استعمال کر سکتے ہیں اور چند منٹوں کتاب Amazon  پر لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس میں آپ ہر سیل پر کتاب کی قیمت کا 70 فیصد منافع حاصل کریں گے۔ مزید برآں آپ جب چاہے کتاب کی قیمت میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ Books Funder اور Publishing.com جیسی ویب سائٹس  پر بھی اپنی کتاب شائع کر سکتے ہیں۔

4۔ نئی یا پرانی اشیاء کو آن لائن فروخت کریں

آپ ایمازون پر پرانی کتابیں بھی بیچ سکتے ہیں، ایسی کتابیں جن کے پیٹنٹ کے حقوق ختم ہوچکے ہوں۔ اس کے علاوہ Dubizzle نامی ویب سائٹ پر آپ پرانی ٹیک پراڈکٹس یا فرنیچر بیچ سکتے ہیں۔

5۔ خود کی بنائی ہو اشیاء آن لائن فروخت کریں

آپ خود کی بنائی ہوئی اشیاء بھی آن لائن فروخت کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ اگر آپ نے کوئی پینٹنگ بنائی ہے یا کوئی تصویر بنائی تو آپ Etsy جیسی ویب سائٹ پر انہیں بیچ کر کچھ پیسے کما سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ انسٹاگرام پر اپنا اکاؤنٹ بنا کر فالورز بڑھائیں اور پھر انہیں اپنی پراڈکٹ فروخت کریں یا اپنی ویب سائٹ بنا لیں۔ یا آپ اپنی اشیاء کو فروخت کرنے کے لیے Amazon  اور پاکستان میں Jangomall.com یا Daraz.pk جیسی ویب سائٹس کا استعمال کر سکتے ہیں۔

6۔ دوسری ویب سائٹس کے ساتھ مل کر کام کریں

دوسری ویب سائٹس کے ساتھ مل کام کرنے یا انہیں اپنے ویب سائٹ پر جگہ دینے کو Affiliate marketing  کہتے ہیں۔ جس میں آپ اپنی ویب سائٹ کسی دوسری ویب سائٹ کا لنک دیتے ہیں اور اگر آپ کی ویب سائٹ پر اس لنک کے ذریعے کچھ خریدا جاتا ہے تو اس سیل میں سے کچھ پیسے آپ کو ملتے ہیں۔

7۔ فری لانسنگ

آن لائن کمائی کا سب سے مشہور طریقہ فری لانسنگ ہے۔ اس طریقہ کار میں آپ گھر بیٹھے دوسروں کو اپنی سروسز فراہم کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ کسی کو کچھ پڑھا سکتے ہیں،کسی کے لیے کچھ لکھ سکتے ہیں۔ جس بھی میں فیلڈ میں آپ ماہر یا اسکا کام جانتےہیں تو آپ درج ذیل ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں جن کو آپ کی مہارت یا سروسز کی ضرورت ہے۔

Upwork

Fiverr

Freelanceing.com

ان ویب سائٹس پر آپ اپنا اکاونٹ بنائیں گے اور جو مہارت آپ نے اکاؤنٹ بناتے ہوئے درج کی ہوگی اس سے متعلق جتنی بھی جابز ہوں گی وہ آپ کے سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ اور آپ ان جابز کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں اور ٹاسک مل جانے پر گھر بیٹھے ہی اس پر کام کر سکتے ہیں، ٹاسک مکمل ہونے کے بعد آپ کو پیسے مل جائیں گے۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button