
خلیج اردو
31 مارچ 2021
بیجنگ : میانمار کے ساتھ چین کے جڑے سرحدات پر چین نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے جہاں چین میں بدھ کے روز کرونا وائرس کے 6 کیسز سامنے آئے تھے۔ یہ دو مہینوں بعد ایک بڑی تعداد میں کرونا کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔
210 ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل رُویلی شہر میں تین علامتی کیسز سامنے آئے ہیں یہ تینوں میانمار کے شہری ہیں جن کی عمریں 24 سے 28 سال کے درمیان ہیں۔
رویلی پڑوسی ملک میانمار میں میوز کا ایک اہم بارڈر ہے جہاں یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد بدامنی میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر میانمار میں فوجی بغاوت کے منتظمین نے عوام پر تشدد میں اضافہ کیا تو وہاں سے کرونا کا ایک سیلاب آمڈ سکتا ہے۔
بدھ کے روز چین میں یونان کے صحت کے حکام نے متنبہ کیا تھا کہ غیر قانونی گزرگاہوں اور بندرگاہوں پر سختی لائیں گے حالانکہ انہوں نے اس وبا کو براہ راست میانمار سے ہونے والی نقل مکانی سے نہیں جوڑا۔
ایک سرکاری نوٹس میں کہا گیا کہ رویلی اس کے تمام رہائشیوں کو وائرس کیلئے ٹیسٹنگ کرے گا اور ہر ایک فرد ایک ہفتے کیلئے گھرو میں قرنطینہ میں چلا جائے گا۔
اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ بلاکسی ضرورت کے شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں اور کسی ضرورت کے تحت ہی گھروں سے نکلا کریں۔
واضح رہے کہ میانمار کی سکیورٹی فورسز نے منتخب حکومت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے ملک بھر میں جمہوریت کے حامی جلسوں کو کچلتے ہوئے سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا ہے ۔
چین کی سرحدیں زیادہ تر غیر ملکیوں کیلئے بند رہیں اور حالیہ مہینوں میں کرونا کیسز بیرون ملک مقیم شہریوں کے واپس آنے سے ہوا ہے۔
Source : Khaleej Times







