متحدہ عرب امارات

دبئی میں والدین کو رمضان کے دوران کن خاص کا باتوں کا خیال رکھنا ہوگا؟

 

خلیج اردو آن لائن:

متحدہ عرب امارات کی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ لہذا کل 13 اپریل بروز منگل متحدہ عرب امارات میں پہلا روزہ ہوگا۔

اگر آپ دبئی میں رہائش پذیر ہیں تو آپ کو یاد رکھنا ہوگا کہ بچوں کے اسکول کے اوقات اور دفاتر کے اوقات میں رمضان کے مہینے کے لیے تبدیلی کر دی گئی ہے۔ لہذا آپ کو اپنے دن بھر کی سرگرمیوں کو اسی حساب سے مرتب کرنا ہوگا۔

مزید برآں، یو اے ای بھر میں کورونا وبا کے پیش نظر اس رمضان سحر و افطار کے کھانوں کی تقسیم اور عبادات کے حوالے سے بھی متعدد قواعد و ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ جن پر عمل کرنا لازم ہوگا۔

دبئی میں رمضان کے اوقات درج ذیل ہیں، اور آپ بحثیت والدین نیچے دی گئی باتوں کو خیال رکھنا ہوگا:

رمضان میں دبئی بھر کے اسکولوں اور دفاتر کے اوقات تبدیل کر دیے گئے ہیں جوکے آپ کے خاندان جاننے کی ضرورت ہے۔

  • یاد رہےکہ متحدہ عرب امارات بھر میں بچوں کے اسکولوں کے اوقات میں کمی کر دی گئی ہے۔ اور اس کمی کا اطلاق گھر سے کلاسیں لینے والے اور اسکول جانے والے تمام بچوں پر ہوگا۔ دبئی کی نالج اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق دبئی میں رمضان کے دوران اسکولوں کے اوقات کم کر کے 5 گھنٹے کر دیے گئے ہیں۔ لہذا اسکول 9 بجے کھلیں گئے 2 بجے بند ہو جائیں گے۔
  • یو اے ای بھر میں کام کرنے والے والدین کے لیے دفتری اوقات بھی کم کر دیے گئے ہیں۔ تاہم، دفتری اوقات میں کتنی تبدیلی کی گئی ہے اس بات کا انحصار آپ کے شعبے پر ہوگا۔
  • نجی شعبے میں اوقات کار میں رمضان کے دوران دو گھنٹوں کی کمی کی گئی ہے۔ اس کمی کا اطلاق روزہ رکھنے والے اور نہ رکھنے والے تمام ملازمین پر ہوگا
  • تاہم، دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر نے رمضان کے دوران دفتری اوقات میں کمی صرف مسلمان ملازمین کے لیے کی ہے۔ جبکہ ابو ظہبی گلوبل مارکیٹ نے رمضان میں اوقات کار کی کمی صرف روزہ رکھنے والے ملازمین کے لیے کی ہے۔
  • جبکہ سرکاری دفاتر کے لیے رمضان کے دوران دفتری اوقات صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہوں گے۔

اگر آپ کی کمپنی یا آجر رمضان کے دوران آپ کے اوقات کار میں کمی نہیں کرتا تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟

جواب: اگر آپ کی کمپنی یا آجر رمضان کے دوران آپ کے دفتری اوقات میں اعلان کردہ گھںٹوں کی کمی نہیں کرتا تو یہ یو اے ای کے لیبر لاء کی خلاف ورزی ہوگی۔ جس کے نتیجے میں آجر پر 3 ہزار سے 10 ہزار درہم جرمانہ ہو سکتا ہے اور پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہیں۔

لہذا اگر یو اے ای کے قانون کی ایسی کوئی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ملازم کمپنی کے خلاف یو اے ای کی وزارت برائے انسانی وسائل (موہری) کے پاس اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے۔

کیا گھریلو ملازمین اور آیا وغیرہ کے اوقات کار میں کمی کرنی ہوگی؟

جواب: یو اے ای کے لیبر لاء کے مطابق دفتری اوقات میں کمی سے متعلق قانون کا اطلاق گھروں میں کام کرنے والے نجی ملازمین پر نہیں ہوتا ہے۔ لہذا گھریلو ملازمین کے اوقات کار میں کمی قانونی فریضہ نہیں ہوگا۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button