خلیج اردو
دبئی: بھارت اور پاکستان کے درمیان ورلڈ کپ کے ہائی پروفائل میچ پر پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے میں یو اے ای کرکٹ بورڈ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پیر کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یو اے ای کی مداخلت نے اس بحران کے حل میں فیصلہ کن اثر ڈالا۔
چند روزہ شدید قیاس آرائیوں کے بعد پاکستان حکومت نے پیر کو اعلان کیا کہ قومی ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ کھیلے گی۔ اس سے قبل پاکستان نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکالنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس نے عالمی کرکٹ میں ہلچل مچا دی تھی۔
اس بحران کے حل کے لیے آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان اتوار کو لاہور میں ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں یو اے ای کرکٹ بورڈ کی نمائندگی بھی شامل تھی۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی میں چیئر آف ایسوسی ایٹس کی حیثیت سے امارات کرکٹ بورڈ کی نمائندگی کرنے والے مبشر عثمانی نے ورچوئل طور پر اجلاس میں شرکت کی اور تمام فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ای سی بی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ مبشر عثمانی شروع سے ہی مذاکراتی عمل میں شامل رہے اور حتیٰ کہ پیر کی شام تک پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کو ختم کرانے میں بھی ان کا کردار کلیدی رہا۔
اطلاعات کے مطابق مبشر عثمانی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو یاد دلایا کہ 2009 میں لاہور دہشت گرد حملے کے بعد جب پاکستان اپنی ہوم سیریز نہیں کھیل سکتا تھا تو یو اے ای نے تقریباً دس برس تک دبئی، ابوظہبی اور شارجہ کے عالمی معیار کے اسٹیڈیم پاکستان کو فراہم کیے تھے۔
ذرائع کے مطابق اب پاکستان نے عالمی کرکٹ ایکو سسٹم کی مدد کی، کیونکہ بھارت–پاکستان ورلڈ کپ میچ سے حاصل ہونے والی آمدنی آئی سی سی کے تحت ایسوسی ایٹ ممالک میں کرکٹ ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ بڑا مقابلہ اتوار کو کولمبو میں کھیلا جائے گا، جس سے تقریباً 400 ملین ڈالر آمدنی متوقع ہے۔







