
خلیج اردو
فلپائن کی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اب ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 60 سے زائد پیسو میں ٹریڈ کر رہی ہے، جس سے ملک کے لیے غیر ملکی ایندھن کی خریداری مہنگی اور دشوار ہوگئی ہے۔
تھائی بھات نے بھی جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی گراوٹ دیکھی، حالانکہ یہ فلپائن کی طرح سب سے کم ترین سطح پر نہیں پہنچی۔ بھات گزشتہ چار ہفتوں میں 5.10 فیصد کم ہو کر 32.49 فی امریکی ڈالر ہو گئی ہے، جبکہ فلپائن پیسو 4.87 فیصد کم ہو کر 60.55 فی ڈالر ہے۔
جنوبی کوریا کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے، جہاں کرین ون 4.54 فیصد کم ہو کر 1,508.56 فی ڈالر پر پہنچ گئی، جو 17 سال کی کم ترین سطح ہے۔
تائیوان ڈالر اور جاپانی ین میں معمولی کمی دیکھی گئی، بالترتیب 2.07 اور 1.71 فیصد کم ہو کر 32.04 اور 160.29 فی ڈالر ٹریڈ کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا روپیہ اور ویتنام ڈونگ نے 1.12 فیصد کمی دیکھی ہے، روپیہ 16,990.8 اور ڈونگ 26,337 فی ڈالر پر ہے۔
چینی یوان سب سے کم متاثر ہوا، صرف 0.78 فیصد کی ہلکی گراوٹ کے ساتھ، اور یہ اب 6.91 فی ڈالر ٹریڈ کر رہا ہے، جس کی وجہ ملک کی بڑی معیشت اور غیر ملکی زر مبادلہ کا ذخیرہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں نے کرنسیوں کی گراوٹ کی بنیادی وجہ بنائی ہے۔ وہ ممالک جو بڑے تجارتی خسارے، زیادہ مہنگائی اور سرمایہ کے اخراج کا سامنا کر رہے ہیں، جیسے فلپائن اور تھائی لینڈ، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
یمن کے حوثی عسکریت پسندوں کی بحیرہ احمر میں شپنگ لائنز کو متاثر کرنے کی خبروں کے بعد، مشرقی ایشیا کے ممالک توقع کر رہے ہیں کہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے قبل اس کے کہ بہتری آئے۔







