
خلیج اردو
ماہرین کے مطابق پیر کی صبح لچکدار اوقات، کم دباؤ والے کام، ابتدائی اوقات میں اہم میٹنگز سے گریز اور منیجرز کی جانب سے ہمدردانہ رویہ پیداوار میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔
کلینیکل سائیکالوجسٹ فداء حسن کا کہنا ہے کہ “پیر کو دباؤ کے بجائے منتقلی کا دن سمجھنا چاہیے، جب لوگ ہفتے کا آغاز سکون سے کرتے ہیں تو پورے ہفتے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔”
یو اے ای میں بہت سے ملازمین کے لیے کام کا آغاز ای میلز یا میٹنگز سے نہیں بلکہ پیر کی طویل اور سست ٹریفک سے ہوتا ہے، جس کے باعث دفتر پہنچنے سے پہلے ہی ذہنی تھکن اور چڑچڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
رابرٹ والٹرز کی ایک حالیہ اسٹڈی کے مطابق 53 فیصد ملازمین پیر کو اہم ترین ورک ڈے سمجھتے ہیں، مگر 62 فیصد پیر کے روز دفتر آنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، جس کی بڑی وجہ کام نہیں بلکہ ٹریفک کا دباؤ ہے۔
دبئی آر ٹی اے اور دبئی گورنمنٹ ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ کی 2024 کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ کئی نجی کمپنیاں پہلے ہی فلیکسبل اور ریموٹ ورک کی سہولت دے رہی ہیں، جس سے شیخ زاید روڈ اور الخیل روڈ جیسے مصروف راستوں پر رش کم ہو سکتا ہے۔
ایچ آر ماہرین کے مطابق پیر کی ٹریفک اب دفاتر کے بڑے مسائل میں شامل ہو چکی ہے، بایوٹ اور ڈبزل کی ایچ آر ڈائریکٹر سوزین گینڈی کا کہنا ہے کہ “اصل مسئلہ فاصلہ نہیں بلکہ غیر متوقع اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا سفر ہے۔”
ماہرین نفسیات کے مطابق بار بار پیر کے دن ٹریفک کا دباؤ طویل مدت میں برن آؤٹ کا سبب بن سکتا ہے، جس سے ملازمین کی دلچسپی اور حوصلہ متاثر ہوتا ہے۔
تجزیہ: پیر کے روز اوقات کار میں معمولی لچک اور بہتر دفتری منصوبہ بندی نہ صرف ٹریفک دباؤ کم کر سکتی ہے بلکہ یو اے ای میں مجموعی پیداوار اور ملازمین کی ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔





