متحدہ عرب امارات

کیرالہ میں وائرل ویڈیو کے بعد گرفتاری کے معاملے پر یو اے ای میں موجود ماہرین نے ‘سوشل میڈیا پر ٹرائل’ کے رجحان کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصفانہ قانونی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ آن لائن اجتماعی مذمت شدید نفسیاتی دباؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

کیرالہ میں وائرل ویڈیو کے بعد گرفتاری کے معاملے پر یو اے ای میں موجود ماہرین نے ‘سوشل میڈیا پر ٹرائل’ کے رجحان کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصفانہ قانونی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ آن لائن اجتماعی مذمت شدید نفسیاتی دباؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
خلیج اردو
مڈل سیکس یونیورسٹی دبئی کے شعبہ قانون و سیاست کے ایڈجنکٹ فیکلٹی پروفیسر آریان اسد لالانی کا کہنا ہے کہ “منصفانہ قانونی عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملزم اس وقت تک بے گناہ سمجھا جاتا ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے، مگر سوشل میڈیا کی عوامی عدالت میں یہ اصول موجود نہیں ہوتا۔”

انہوں نے کہا کہ “سوشل میڈیا الگورتھم مخصوص بیانیے کو ابھارتے ہیں، لوگ آدھی کہانی دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں، جو نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔”

یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں پولیس نے ایک خاتون کو گرفتار کیا، جس نے بس میں مبینہ طور پر ہراسانی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق دو دن بعد مذکورہ شخص نے خودکشی کر لی، جبکہ اس کے اہلخانہ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے خاتون پر شہرت حاصل کرنے کا الزام لگایا۔ خاتون پر خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وہ عدالتی ریمانڈ پر ہے۔

آسٹر کلینکس سے وابستہ کلینیکل سائیکالوجسٹ اسرا سرور کے مطابق “جب کوئی شخص اجتماعی آن لائن تنقید کا نشانہ بنتا ہے تو اس کے شدید نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ انسان فطری طور پر سماجی قبولیت کا خواہاں ہوتا ہے۔”

ان کا کہنا ہے کہ “مسلسل عوامی شرمندگی خود اعتمادی کو مجروح کر دیتی ہے اور بے بسی و ناامیدی کے احساسات کو جنم دیتی ہے، جو ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات کے اہم عوامل ہیں۔”

قانونی ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر الزامات لگانے کا بڑھتا ہوا رجحان انصاف اور احتساب کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ پروفیسر لالانی کے مطابق “عوامی عدالت شواہد یا توازن پر نہیں بلکہ کلکس، غصے اور وائرل ہونے پر چلتی ہے۔”

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر بعد میں الزامات غلط ثابت ہو جائیں تو بھی آن لائن کردار کشی کا نقصان اکثر ناقابلِ تلافی ہوتا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل مواد برسوں بعد بھی دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔

اسرا سرور کے مطابق آن لائن ہجوم نفسیات اور گمنامی لوگوں کو زیادہ جارحانہ بنا دیتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نادانستہ طور پر انتہاپسند ردعمل کو فروغ دیتے ہیں۔

دونوں ماہرین نے نشاندہی کی کہ حقیقی وِسل بلوئنگ اور بے لگام کال آؤٹ کلچر کے درمیان باریک لکیر ہے، کیونکہ قانونی نظام شواہد اور تحفظات پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اکثر وائرل ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button