متحدہ عرب امارات

18 جولائی 1971: متحدہ عرب امارات کے قیام کی وہ تاریخی داستان جو کم لوگ جانتے ہیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر نے 2024 میں 18 جولائی کو باضابطہ طور پر یومِ عہدِ اتحاد (Union Pledge Day) قرار دیا۔ یہی وہ تاریخی دن تھا جب بانی رہنماؤں نے متحدہ عرب امارات کے قیام کے اعلامیے اور آئین پر دستخط کیے اور پہلی بار ملک کا سرکاری نام متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates) رکھا گیا۔

اماراتی مورخ اور محقق ڈاکٹر حمد بن سرائے کے مطابق یو اے ای کا قیام کسی ایک دن یا اچانک ہونے والا فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ 1968 سے شروع ہونے والے طویل مشاورتی عمل، مذاکرات اور اتفاق رائے کا نتیجہ تھا۔ اس دوران ساتوں امارات کے علاوہ بحرین اور قطر کے نمائندوں نے بھی متعدد اجلاسوں میں شرکت کی۔

ان مذاکرات میں وفاقی ڈھانچے، آئین، اختیارات کی تقسیم، سرحدوں کے تعین اور صدر و نائب صدر کے انتخاب جیسے اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ 18 جولائی 1971 کو آئین کی منظوری کے ساتھ وفاق کی بنیاد رکھی گئی، جس نے آج کے جدید وفاقی نظام کی شکل اختیار کی۔

متحدہ عرب امارات کے نیشنل آرکائیو اور لائبریری میں اس تاریخی مرحلے کی نایاب تصاویر محفوظ ہیں، جن میں دبئی کے جمیرہ گیسٹ پیلس میں ہونے والے اجلاس، اتحاد کے اعلان اور بانی رہنماؤں کے مشاورتی لمحات شامل ہیں۔

جدید خلیجی تاریخ کے ماہر ڈاکٹر سیف البدواوی کے مطابق اتحاد کا خیال جنوری 1968 میں اس وقت سامنے آیا جب شیخ زاید بن سلطان آل نہیان اور شیخ راشد بن سعید آل مکتوم کی سمیح (Sumaih) میں ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ابوظہبی اور دبئی کے اتحاد پر اتفاق کیا اور دیگر امارات کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

فروری 1968 میں ساتوں امارات، بحرین اور قطر نے مجوزہ اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے، تاہم دارالحکومت کے تعین اور دیگر سیاسی اختلافات کے باعث بحرین اور قطر بعد میں الگ ہو گئے اور آزاد ریاستیں بننے کا فیصلہ کیا۔

جولائی 1971 میں 10 سے 17 جولائی تک جمیرہ گیسٹ پیلس میں مسلسل آٹھ روز مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں وفاقی اتحاد پر حتمی اتفاق ہوا۔ بعد ازاں 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جبکہ راس الخیمہ 10 فروری 1972 کو وفاق میں شامل ہوا۔

یومِ عہدِ اتحاد ہر سال اس تاریخی سفر کی یاد دلاتا ہے جس نے مشاورت، اتفاق رائے اور دور اندیش قیادت کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی بنیاد رکھی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button