
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں آن لائن فوڈ اور گروسری ڈلیوری کمپنی طالبات (Talabat) نے پہلی بار 20 خواتین پر مشتمل ڈلیوری رائیڈرز کا پہلا گروپ اپنے بیڑے میں شامل کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لاجسٹکس اور ڈلیوری کے شعبے میں خواتین کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔
چار بیٹیوں کی سنگل ماں حسینہ بی بی مہربان شاہ نے کہا کہ انہوں نے یہ پیشہ اپنے خاندان کا مستقبل بہتر بنانے اور مالی خودمختاری حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا۔ ان کے مطابق ہر ایماندار پیشے میں عزت ہوتی ہے۔ ابتدا میں اہل خانہ کو ان کی حفاظت کی فکر تھی، لیکن اب وہ ان پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا محفوظ ماحول انہیں اعتماد دیتا ہے جبکہ صارفین کی عزت افزائی ان کے حوصلے کو مزید بڑھاتی ہے۔
آٹھ برس سے ڈلیوری رائیڈر کے طور پر کام کرنے والی اولیور نانکوانگا نے بتایا کہ اس پیشے نے انہیں اپنے پانچ بچوں کی کفالت، تعلیم اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا موقع فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں لوگ انہیں ایک محنتی اور باعزم خاتون کے طور پر دیکھیں، نہ کہ صرف اس لیے حیران ہوں کہ وہ روایتی طور پر مردوں کے سمجھے جانے والے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔
سہیرہ نانٹونگو نے بھی بتایا کہ ابتدا میں خاندان اور دوستوں نے انہیں اس پیشے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے اسے باعزت روزگار کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔ ان کے مطابق صارفین کی حوصلہ افزائی اور خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جانا ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ان خواتین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں کوئی بھی پیشہ صرف مردوں یا خواتین کے لیے مخصوص نہیں رہا۔ ان کے مطابق کامیابی کا دارومدار جنس پر نہیں بلکہ محنت، عزم اور مستقل مزاجی پر ہوتا ہے۔ وہ امید کرتی ہیں کہ ان کی مثال دیکھ کر مزید خواتین بھی ایسے شعبوں میں قدم رکھیں گی جہاں ماضی میں ان کی نمائندگی کم رہی ہے۔






