
خلیج اردو
10 اکتوبر 2021
دبئی : بنک اکاؤنٹ روزمرہ زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے جس کے حوالے سے جیسے شروع کرنے یا کھولنے سے متعلق لوازمات ہیں ایسے ہی اسے بند کرنے سے متعلق ایک قاری نے خلیج ٹائمز سے سوال پوچھا ہے جس کا جواب ذیل میں سوال کے بعد دیا گیا ہے۔
سوال : کیا ایک بنک کسی رہائشی کا اکاؤنٹ بنا کسی وضاحت دیئے معطل کر سکتا ہے؟ ایک دوست کا اکاؤنٹ بند ہوگیا ہے جسے بنک نے اندرونی پالیسی قرار دیا ہے اور کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔ اس حوالے سے کیا شکایت کی جا سکتی ہے؟
جواب : آپ کے سوالات کے مطابق جیسا کہ آپ کے دوست کا بینک اکاؤنٹ درست وضاحت فراہم کیے بغیر بند کیا گیا تھا ، کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشن سے متعلق مرکزی بینک متحدہ عرب امارات کے 2020 سرکلر نمبر 8 قابل اطلاق ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں بنک یا فنانشل انسٹیٹیوٹ کیلئے لازمی ہے کہ وہ صارفین کو 60 دن پیشگی تحریری نوٹس بھجوائے۔ تاہم ایک بنک کسی صارف کا اکاؤنٹ اس صورت میں بنا کسی پیشگی نوٹس کے معطل کر سکتا ہے اگر بنک کوئی غیر قانونی ٹرانزیکشن دیکھ پایا ہے۔
قانون کے مطابق بنک آپ کے دوست کا اکاؤنٹ بند کر سکتا ہے اگر انہیں کوئی مشکوک ٹرانیزیکشن دیکھائی دیتا ہے۔
اگر آپ کے دوست کا اکاؤنٹ بالکل درست ہے اور بنک نے اسے بند کیا ہے تو وہ اس کے خلاف شکایت درج کر سکتا ہے۔ تاہم شکایت سے پہلے وہ یقینی بنائے کہ وہ اپنے ای میل دیکھ لیں۔
Source : Khaleej Times







