
لیج اردو
واشنگٹن: امریکی فیڈرل ریزرو اس ہفتے اپنی پالیسی میٹنگ میں رواں سال کی پہلی شرح سود میں کمی کرنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق 25 بیسس پوائنٹس کمی متوقع ہے جو کمزور ہوتی ملازمتوں کی منڈی کے باعث کی جائے گی۔ تاہم اس میٹنگ پر سیاسی دباؤ کے سائے بھی منڈلا رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شرح سود کم کرنے کے مطالبات کے بعد یہ اقدام ایسے وقت میں متوقع ہے جب ان کی جانب سے فیڈ کی آزادی پر دباؤ بڑھنے کی تشویش پائی جاتی ہے۔ فیڈ نے دسمبر سے اب تک شرح سود کو 4.25 فیصد سے 4.50 فیصد کے درمیان برقرار رکھا تھا تاکہ مہنگائی پر نظر رکھی جا سکے، خاص طور پر ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف کے اثرات کے پیش نظر۔
دوسری جانب، فیڈ گورنر لیزا کک کی برطرفی پر قانونی جنگ اور گورنر ایڈریانا کوگلر کے استعفے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے اقتصادی مشیر اسٹیفن میرن کو نامزد کیا ہے، جس سے ادارے کے آزادانہ فیصلوں پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کا یہ عمل کس حد تک جاری رہے گا، اس حوالے سے مارکیٹیں فیڈ چیئرمین جیروم پاول کے بیانات کا بغور جائزہ لیں گی، خاص طور پر جب مہنگائی کی شرح 2.9 فیصد تک جا پہنچی ہے اور ملازمتوں کی منڈی بھی سست روی کا شکار ہے۔







