
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات اور خطے بھر میں سرمایہ کار کرپٹو کرنسی سے سرمایہ نکال کر محفوظ اثاثوں یعنی سونا اور چاندی میں منتقل کر رہے ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیجیٹل کرنسیوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور حالیہ بڑی گراوٹ اس رجحان کی اہم وجہ بن رہی ہے
مالیاتی منڈیوں کے ماہر وائل مکرّم نے کہا کہ حالیہ عرصے میں کرپٹو کرنسی خاص طور پر عام سرمایہ کاروں کے لیے بہت پرکشش تھی تاہم بٹ کوائن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کی توقع رکھنے والے کئی سرمایہ کار اب اپنی سرمایہ کاری نکال کر اجناس کی منڈی کا رخ کر رہے ہیں تاکہ اپنے نقصانات کا ازالہ کر سکیں
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 میں بٹ کوائن تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک گر کر تریسٹھ ہزار ڈالر تک آ گیا جبکہ بعد ازاں معمولی بہتری کے ساتھ سڑسٹھ ہزار ڈالر کے قریب بحال ہوا
اس کے برعکس گزشتہ ماہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور دونوں دھاتیں بالترتیب پانچ ہزار پانچ سو ڈالر اور ایک سو بیس ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئیں
مالیاتی اداروں کی جانب سے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی بڑھتی خریداری شرح سود میں کمی اور عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے
جے پی مورگن چیس نے پیشگوئی کی ہے کہ سونے کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان 2026 اور 2027 تک برقرار رہ سکتا ہے اور یہ چھ ہزار ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ یو بی ایس نے بھی قیمتی دھات کے لیے چھ ہزار دو سو ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے
ماہرین کے مطابق چین میں سخت ضابطہ کار اور بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے اپنی پوزیشنز ختم کرنے جیسے عوامل نے بھی کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا ہے
سرمایہ کاروں کا سونا اور چاندی کی جانب بڑھتا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر یقینی معاشی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔







