
خلیج اردو
دبئی کی سڑکوں پر تقریباً 90 فیصد ٹریفک کاروباری اور روزمرہ دفتری سفر کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بات یو اے ای کے ٹریفک اور روڈ سیفٹی ماہر ڈاکٹر مصطفیٰ الدہ نے کہی ہے۔
انہوں نے کہا، "میرا اندازہ ہے کہ سڑکوں پر تقریباً 90 فیصد ٹریفک کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے ہے، نجی نوعیت کے سفر اس میں کم حصہ رکھتے ہیں۔” ان کے مطابق زیادہ تر رش دفاتر، اسکولوں اور تجارتی سرگرمیوں کے باعث ہوتا ہے، نہ کہ تفریح یا خریداری کے سفر کی وجہ سے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ الدہ نے وضاحت کی کہ دبئی مختلف آبادیاتی مراکز میں پھیل چکا ہے اور اکثر ملازمین اپنے کام کی جگہ کے قریب نہیں رہتے، جبکہ بیشتر ادارے رہائش فراہم نہیں کرتے۔ اس وجہ سے ہزاروں افراد روزانہ طویل فاصلہ طے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اس بات کا نتیجہ ہے کہ لوگ اب پیدل نہیں چلتے، شہر کی ساخت ایسی ہو چکی ہے کہ گھر اور دفتر کے درمیان سفر کے لیے گاڑیوں پر انحصار بڑھ گیا ہے۔”
اسکولوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار طلبہ کو تقریباً 20 بسوں کے ذریعے لایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر بچے کو والدین الگ گاڑی میں چھوڑیں تو ایک ہی وقت میں ایک ہزار گاڑیاں سڑک پر آ جاتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، "سڑک پر زیادہ جگہ کون لے گا، ایک ہزار گاڑیاں یا 20 بسیں؟”
ان کا کہنا تھا کہ سڑکیں ایک مخصوص حد تک ہی گاڑیوں کا بوجھ برداشت کر سکتی ہیں، حد پوری ہوتے ہی ٹریفک کی رفتار تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ الدہ نے مزید کہا کہ نئے منصوبوں کے لیے تیار کی جانے والی ٹریفک اسٹڈیز اور منصوبوں کی تکمیل کے بعد حقیقی صورتحال میں اکثر فرق پایا جاتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دبئی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں ٹریفک کی اصل وجوہات، خصوصاً دفتری اور کاروباری سفر، کو سمجھنا مستقبل میں بہتر ٹریفک مینجمنٹ کے لیے ناگزیر ہوگا۔






