متحدہ عرب امارات

بھارت پاکستان کرکٹ مقابلہ، سچ سے زیادہ ٹی آر پیز کی جنگ نے ماحول کشیدہ کر دیا

خلیج اردو
بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ سے قبل میڈیا میں بیانیے کی جنگ نے کرکٹ کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ دبئی میں مقیم 76 سالہ سابق پاکستانی امپائر طارق بٹ کہتے ہیں کہ اب انہیں کرکٹ میں وہ کشش محسوس نہیں ہوتی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔

انہوں نے کہا، "میں نے جاوید میانداد کا آخری گیند پر چھکا اور سچن ٹنڈولکر کی ڈیزرٹ اسٹورم اننگز دیکھی ہے، مگر آج کرکٹ کے گرد سیاست اتنی زہریلی ہو چکی ہے کہ دل نہیں کرتا ٹی وی آن کروں۔ میڈیا نے اسے کھیل کے بجائے جنگ بنا دیا ہے۔”

بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور بائیکاٹ کی دھمکیوں نے نہ صرف جغرافیائی سیاست کا تلخ پہلو نمایاں کیا بلکہ دونوں ممالک کے میڈیا کے درمیان سخت بیانیہ جنگ بھی چھیڑ دی۔ ریٹنگز، کلکس اور ٹی آر پیز کی دوڑ میں بعض ٹی وی مباحثوں میں سخت اور غیر شائستہ زبان استعمال کی گئی، جبکہ کئی رپورٹس کی ساکھ بھی سوالیہ نشان بنی رہی۔

معروف بھارتی اسپورٹس رائٹر شردا اگرا کا کہنا ہے، "آج کل بہت سے صحافی سوشل میڈیا کی گفتگو کا حصہ بننے کے لیے پرفارم کرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ خود بھی اس پر یقین رکھتے ہوں، مگر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ان کی پروفائل بڑھے گی۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ میڈیا انڈسٹری میں آزادیٔ صحافت کو درپیش چیلنجز اس مسئلے کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

سینئر بھارتی کرکٹ صحافی چندر شیکھر لتھرا نے کہا، "جب میں غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی کہانی لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو بہت کم ادارے اسے شائع کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ ٹی وی مباحثوں میں بھی اگر میں طے شدہ بیانیے سے ہٹ کر بات کروں تو آواز بند کر دی جاتی ہے۔”

دوسری جانب پاکستانی صحافی ثناءاللہ خان نے انکشاف کیا کہ ایک انٹرویو کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پابندی کے باعث وہ ورلڈ کپ کور نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا، "آج ہر شخص کے ہاتھ میں مائیک ہے مگر وہ صحافی نہیں، محض کرکٹ کے مداح ہیں۔ مارکیٹ ٹی آر پیز پر چلتی ہے، اس لیے ہر چیز کو ڈرامائی بنایا جاتا ہے، فیکٹ چیکنگ تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔”

معروف کمنٹیٹر نعمان نیاز نے بھی اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا نے رپورٹنگ اور جذباتی نعروں کے درمیان لکیر دھندلا دی ہے، اور سیاسی یا اسپورٹس کشیدگی کے لمحات میں قوم پرستی کو صحافت کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔

اگرچہ میدان میں ہونے والا مقابلہ کسی ایک ٹیم کو فاتح بنائے گا، مگر میڈیا کی اس بیانیہ جنگ میں کھیل اور سچ دونوں ہی ہارتے دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button