متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں کرایوں میں اضافے اور شرح سود میں کمی، رہائشی قرضوں کی طلب تیزی سے بڑھنے لگی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کرایوں میں اضافے اور قرضوں کی لاگت میں کمی کے باعث گھروں کی خریداری کے لیے رہائشی قرضوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ بات راک بینک کے گروپ سی ای او راحیل احمد نے کہی ہے۔

انہوں نے کہا، "ذاتی قرضوں اور مارگیج کی طلب بہت مضبوط ہے کیونکہ فنانسنگ کی لاگت کم ہو رہی ہے، جس سے خریداری مزید پرکشش ہو گئی ہے۔ جب کرائے بڑھتے ہیں اور قرض سستا ہوتا ہے تو لوگ خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔” ان کے مطابق یو اے ای میں اوسطاً 4.4 سال بعد رہائشی کرائے سے خریداری کی جانب منتقل ہوتے ہیں، جبکہ کئی افراد 3 سے 4 سال میں یہ فیصلہ کر لیتے ہیں۔

راحیل احمد نے بتایا کہ بینک کے قرضوں میں تقریباً دوہرے ہندسے کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر پرسنل لون اور ایس ایم ای فنانسنگ میں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی کے بعد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی زیادہ قرض لے رہے ہیں۔

امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے مطابق یو اے ای سینٹرل بینک نے 2025 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر بنیادی شرح سود 4.40 فیصد سے کم کر کے 4.15 فیصد کر دی تھی۔

سینٹرل بینک کی دسمبر 2025 رپورٹ کے مطابق ابوظبی میں اپارٹمنٹ مارگیج میں 116.9 فیصد جبکہ ولا مارگیج میں 56.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دبئی میں بھی ولا مارگیج 6.1 فیصد اور اپارٹمنٹ مارگیج 22.5 فیصد بڑھی، جو خریداروں کی مسلسل دلچسپی ظاہر کرتی ہے۔

راک بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں مجموعی قرضوں اور ایڈوانسز میں سال بہ سال 12 فیصد اضافہ ہو کر حجم 55.9 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ پرسنل لون 1.7 ارب درہم اضافے کے ساتھ 25 ارب درہم جبکہ بزنس بینکنگ قرضے 646 ملین درہم اضافے سے 11.3 ارب درہم ہو گئے۔

راحیل احمد نے بتایا کہ جائیداد خریدنے والوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: خوشحال افراد جو یو اے ای منتقل ہوتے ہی پراپرٹی خرید لیتے ہیں، سرمایہ کار جو آف پلان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور وہ افراد جو ملازمت یا ڈیجیٹل نو میڈ کے طور پر آتے ہیں اور 3 سے 4 سال بعد خریداری کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گولڈن ویزا ہولڈرز اور ہنر مند وائٹ کالر ورکرز کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آنے والوں کی اوسط عمر 31.6 سال ہو چکی ہے۔ خواتین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو رہائش اور فنانسنگ کے رجحانات کو متاثر کر رہا ہے۔

ان کے مطابق موجودہ خریداری زیادہ تر ضرورت کے تحت ہو رہی ہے، قیاس آرائی پر مبنی نہیں، جو معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے بینکاری شعبے کی ترقی میں یو اے ای سینٹرل بینک کے کردار کو بھی سراہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button