Uncategorized

رمضان میں دفتری اوقات میں کمی لازمی، اوور ٹائم کا حساب کیسے ہوگا

خلیج اردو
رمضان 2026 سے قبل متحدہ عرب امارات میں متعدد نجی اداروں نے دفتری اوقات میں کمی کا اعلان شروع کر دیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان میں کم اوقاتِ کار کوئی رعایت نہیں بلکہ وفاقی لیبر قانون کے تحت لازمی تقاضا ہے۔

یو اے ای لیبر قانون کے مطابق نجی شعبے میں رمضان کے دوران کام کے اوقات قانونی طور پر مقرر ہیں، اور کمی نہ کرنے والے اداروں کو جرمانوں، اوور ٹائم ادائیگی اور لیبر تنازعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لا فورڈ لیگل ایڈوائزرز کے منیجنگ پارٹنر ایگور ابالوف کے مطابق، "وفاقی ڈکری لا نمبر 33 برائے 2021 کے آرٹیکل 17(4) میں واضح ہے کہ رمضان کے دوران اوقاتِ کار کا تعین ایگزیکٹو ریگولیشنز کے تحت ہوگا”۔

کابینہ ریزولوشن نمبر 1 برائے 2022 کے مطابق، نجی شعبے کے تمام ملازمین کے لیے رمضان میں یومیہ دو گھنٹے کام کم کرنا لازمی ہے۔ ایگور ابالوف کے مطابق، "یہ قانون تمام نجی ملازمین پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، یا روزہ رکھ رہے ہوں یا نہیں”۔

اگر کوئی ادارہ رمضان میں معمول کے اوقات برقرار رکھتا ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی شمار ہوگی۔ ایسی صورت میں وزارتِ انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن کی جانب سے جرمانے اور دیگر انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق رمضان میں کم کیے گئے اوقات ہی قانونی اوقاتِ کار تصور ہوں گے۔ ان سے زائد کام کرنے کی صورت میں اضافی وقت کو اوور ٹائم شمار کیا جائے گا، جس کی ادائیگی بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ دن کے وقت اوور ٹائم پر کم از کم 25 فیصد جبکہ رات کے وقت 50 فیصد اضافی ادائیگی لازم ہے۔

اگر ملازم سے اس کے طے شدہ آرام کے دن کام لیا جائے تو قانون کے مطابق یا تو متبادل چھٹی دی جائے گی یا کم از کم 50 فیصد اضافی ادائیگی کرنا ہوگی، اور یہ ادائیگیاں کسی داخلی پالیسی کے ذریعے ختم نہیں کی جا سکتیں۔

کچھ مخصوص عہدوں جیسے سینئر ایگزیکٹوز، بورڈ ممبرز، سمندری عملہ اور مسلسل شفٹ سسٹم میں کام کرنے والے ملازمین کو استثنا حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ ڈی آئی ایف سی اور اے ڈی جی ایم جیسے فری زونز اپنے علیحدہ لیبر قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی کمپنیاں قانونی تقاضوں کے ساتھ ساتھ ملازمین کی فلاح کے لیے بھی رمضان کے اوقات پہلے سے طے کر لیتی ہیں۔ لندن بزنس اسکول کے اسسٹنٹ پروفیسر اسامہ خان کے مطابق، "رمضان میں کم اوقاتِ کار روزے اور نیند میں خلل کے باعث ہونے والی تھکن کو کم کرتے ہیں اور کارکردگی بہتر رہتی ہے”۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ کم اوقاتِ کار انہیں عبادات، ذہنی سکون اور گھریلو زندگی کے لیے بہتر وقت فراہم کرتے ہیں، جبکہ غیر مسلم ملازمین بھی اس شیڈول کو دفتر کے ماحول میں ہمدردی اور سکون کا باعث قرار دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button