
خلیج اردو
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے خلیجی ممالک سے جنگی اخراجات کے نام پر بھاری مالی مطالبات کر دیے ہیں۔ امریکا نے جنگ جاری رکھنے کیلئے تقریباً 5 کھرب ڈالر جبکہ جنگ روکنے کیلئے ڈھائی کھرب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے اپنے اتحادی ممالک سے دیگر شعبوں میں بھی اخراجات بانٹنے پر زور دیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کیلئے مالی حصہ ڈالنے کا کہا گیا ہے تاکہ اہم بحری راستے کو کھلا رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق جنگ کے بعد امریکا نے خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت بھی کیا، جس سے خطے میں دفاعی اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے مطالبات خلیجی ممالک کیلئے معاشی اور سفارتی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی پالیسیوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔






