
خلیج اردو
بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار نانا پاٹیکر نے انتقال سے صرف چار روز قبل اپنی زندگی، موت اور وقت کی اہمیت کے بارے میں گفتگو کی تھی، جو اب ان کے اچانک انتقال کے بعد غیر معمولی معنویت اختیار کر گئی ہے۔
نانا پاٹیکر نے 4 اکتوبر کو بھارتی ریاست گوا کے ڈونا پاؤلا میں سمرات کلب انٹرنیشنل کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ یہ ان کی آخری عوامی تقریب ثابت ہوئی، جہاں انہوں نے زندگی کی غیر یقینی صورت حال اور انسان کو اپنے وقت کو بامقصد بنانے کی ضرورت پر بات کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نانا پاٹیکر نے کہا کہ ہم سب نے ایک دن دنیا سے رخصت ہونا ہے اور انہیں معلوم نہیں کہ وہ اگلے روز یہاں موجود ہوں گے یا نہیں۔
انہوں نے اپنی زندگی کے مقصد پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا وہ وہی کچھ کر پا رہے ہیں جو کرنا چاہتے ہیں اور کیا انہوں نے اس کے لیے بھرپور کوشش کی ہے۔
نانا پاٹیکر نے گوا کے سابق وزیراعلیٰ منوہر پاریکر کو بھی یاد کیا، جنہیں وہ اپنا قریبی دوست قرار دیتے تھے۔ انہوں نے پاریکر کی عوامی خدمت اور زندگی میں مقصد کے ساتھ کام کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاریکر عمر میں ان سے چھوٹے تھے، تاہم وہ ان کے لیے قابل احترام شخصیت تھے۔
75 سالہ نانا پاٹیکر 8 اکتوبر کو گوا میں اپنی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے کے بعد انتقال کر گئے۔ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
نانا پاٹیکر نے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر کے دوران ہندی اور مراٹھی سینما میں متعدد یادگار کردار ادا کیے۔ پرندا، کرانتی ویر، ویلکم اور نٹسمرات جیسی فلموں میں ان کی اداکاری اور منفرد اندازِ مکالمہ انہیں بھارتی سینما کی نمایاں شخصیات میں شامل کرتا رہا۔
انتقال سے چند روز قبل موت کے بارے میں کہے گئے ان کے الفاظ اب ان کی اپنی زندگی کے آخری باب کے تناظر میں ایک گہرا پیغام بن گئے ہیں۔







