عالمی خبریں

ٹائٹن آبدوز حادثے کی نئی تحقیقاتی رپورٹ جاری، اوشین گیٹ کی حفاظتی پالیسیوں میں سنگین خامیاں بے نقاب

خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی کوسٹ گارڈ نے 2023 میں سمندر کی تہہ میں تباہ ہونے والی ٹائٹن آبدوز سے متعلق نئی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں حادثے کی بنیادی وجہ آبدوز کے پریشر ویسل کی ناقص ساخت اور اوشین گیٹ کمپنی کی حفاظتی پالیسیوں میں سنگین خامیوں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبدوز سمندر کی گہرائی میں جاتے ہوئے اچانک پریشر ویسل کے ناکام ہو جانے سے تباہ ہوئی، جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

تحقیقات کے مطابق آبدوز کا ڈھانچہ اتنا مضبوط نہیں تھا کہ وہ گہرے سمندری دباؤ کو برداشت کر سکے۔ گہرائی میں جانے کے دوران پریشر ویسل نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا، جس کے باعث آبدوز خوفناک دھماکے سے تباہ ہو گئی۔ اس المناک حادثے میں پاکستانی نژاد برطانوی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد سمیت پانچ افراد جان سے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوشین گیٹ کمپنی نے آبدوز کی تیاری اور آپریشنل مرحلے میں حفاظتی پروٹوکولز کو سنجیدگی سے نہیں لیا، اور کمپنی کی حفاظتی پالیسیوں میں شدید انتظامی اور تکنیکی خامیاں موجود تھیں جنہیں بروقت دور نہیں کیا گیا۔

ادھر نیٹ فلکس نے ٹائٹن آبدوز حادثے پر ایک دستاویزی فلم بھی تیار کر لی ہے جس کا نام "ٹائٹن: دی اوشین گیٹ ڈیزاسٹر” رکھا گیا ہے۔ یہ فلم حادثے کے پس منظر، کمپنی کی پالیسیوں، متاثرہ خاندانوں کی کہانیوں اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے سوالات پر مبنی ہے۔

**OceanGate’s Titan submersible disaster caused by structural failure under deep-sea pressure, US Coast Guard report reveals**

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button