
خلیج اردو
03 اکتوبر 2020
واشنگٹن: امریکی میں تین مشہور کمپنیوں فیس بک ، ٹوئٹر اور گوگل نے رضاکارانہ طور پر سینیٹ کمیٹی برائے کامرس کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ تینوں کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز امریکہ میں انٹرنیٹ کمپنیز کو محفوظ بنانے کیلئے مجوزہ قانون سازی کیلئے تعاون کے سلسلے میں پیش ہوں گے۔
ٹویٹر اور فیس بک نے اس حوالے سے تصدیق کی ہے کہ ٹویٹر کے سی ای او جیک ڈورسی اور فیس بک کے سی ای او مارک زاکربرگ سینیٹ کمیٹی برائے کامرس میں پیش ہوں گے جبکہ خبررساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کا حوالے دے کر کہا ہے کہ گوگل کے سی ای او سندر پیچائے بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔
یہ اعلان مذکورہ کمیٹی کی جانب سے اس حکمت عملی کو ووٹ دینے کے بعد ہوا جس میں ان تینوں کمپنیوں کے سی ای او کو کمیٹی میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ٹویٹر کے سی ای او نے ٹویٹر کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینیٹ کمیٹی کی سماعت تعمیری ہوگی۔ ہمیں اس بات پر توجہ مذکور کرنی ہوگی کہ ہمیں الیکشن کو محفوظ کیسے بنا سکتے ہیں۔
اس مکالمے کا آغاز تب سے ہوا ہے جب امریکہ میں سیکشن 230 میں اصلاحات کی باتیں ہورہی ہیں جس میں ذرائع مواصلات کا محفوظ اور درست استعمال کرنے سے متعلق قانون موجود ہے۔ اس قانون کے مطابق انٹرنیٹ کمپنیوں کی ذإہ داری ہے کہ وہ اسے محفوظ بنائیں گے اور وہ صارف کی پرائیوسی کا احترام کریں گے۔
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے رپبلکن سینٹرز سے ملاقات کی تھی جس میں سیکشن 230 بارے گفتگو ہوئی تھی۔ انہیں اس قانون میں ترمیم کیلئے مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ گوگل ، فیس بک ، اپل ،امیزان اور دیگر نامور کمپنیوں نے حال ہی میں ہاؤس آف رپریزنٹیوز کی جوڈیشری کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ضودیشری کمیٹی کا عدم اعتماد پینل اگلے ہفتے تک اپنی رپورٹ جاری کرے گا۔
Source : Reuters







