
بیجنگ: چین میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کے تناظر میں حکومت کی حوصلہ افزا پالیسیوں اور مانع حمل اشیاء پر اضافی ٹیکس کے باوجود نوجوان جوڑے بچوں کے بغیر زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پچیس سالہ گریس اور ان کے شوہر نے واضح طور پر فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ بے اولاد رہیں گے، چاہے اس پر خاندان اور معاشرے کی جانب سے دباؤ ہی کیوں نہ ہو۔
چین نے جنوری 2016 میں دہائیوں پر محیط سخت ایک بچے کی پالیسی ختم کر کے دو بچوں کی اجازت دی تھی، تاہم اس کے ایک عشرے بعد ملک ایک سنگین آبادیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق چین کی آبادی جو اس وقت تقریباً 1.4 ارب ہے، 2100 تک کم ہو کر 63 کروڑ 30 لاکھ رہ جانے کا خدشہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین میں صرف 95 لاکھ 40 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی، جو 2016 کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ آبادی میں مسلسل تیسرے سال کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ بڑھتی عمر کی آبادی اور کم ہوتے نوجوان افراد حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
گریس خود کو اور اپنے شوہر کو ڈِنک یعنی دوہری آمدن مگر بچے نہیں رکھنے والا جوڑا قرار دیتی ہیں۔ ان جیسے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو یا تو بچوں کے بارے میں سوچنے کو تیار نہیں یا پھر اسے غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ ان فیصلوں کی وجوہات میں بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات، کیریئر کے خدشات اور معاشی غیر یقینی شامل ہیں۔
گریس نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بچوں کے بارے میں سوچنے سے پہلے مستحکم آمدن اور مناسب بچت ضروری ہے، بصورت دیگر وہ اس پر غور بھی نہیں کر سکتیں۔ ڈِنک کی اصطلاح چینی سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہو چکی ہے اور ایک پلیٹ فارم پر اس سے متعلق ہیش ٹیگ کو 73 کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جس پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
حکومت نے ایک بچے کی پالیسی کے خاتمے کے بعد شرحِ پیدائش بڑھانے کے لیے مختلف مراعات متعارف کرائیں، جن میں تین سال سے کم عمر ہر بچے کے لیے سالانہ مالی امداد بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ جنوری میں کنڈوم اور دیگر مانع حمل اشیاء پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی عائد کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ان اقدامات کے باوجود چین کو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ آزاد ماہرِ آبادیات ہی یافو کے مطابق نوجوان نسل میں شادی اور بچوں کی خواہش کمزور پڑ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بچے کی پالیسی نے خاندانی اقدار اور طرزِ زندگی کو اس حد تک بدل دیا کہ چھوٹے خاندان اب معمول بن چکے ہیں۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سے وابستہ پروفیسر پین وانگ کے مطابق بڑھتی مہنگائی، معاشی سست روی اور طویل اوقاتِ کار بھی بچوں کے فیصلے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ چین میں 996 ورک کلچر یعنی صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک ہفتے میں چھ دن کام عام ہے، جس کے باعث کئی افراد کے پاس خاندان کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں۔
بیجنگ کے 29 سالہ رہائشی وانگ زیبو نے بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ معیشت کے مستحکم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک بچہ بھی وقت، پیسے اور ذاتی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر چین میں شرحِ افزائشِ نسل طویل مدت تک تقریباً ایک کے قریب رہی تو آبادی میں مسلسل کمی اور تیزی سے بڑھتی عمر کے مسائل ناگزیر ہوں گے، جس سے بزرگوں کی دیکھ بھال کا بوجھ بڑھے گا اور معاشی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔







