عالمی خبریں

تاجکستان میں 4.5 شدت کا زلزلہ

دوشنبے: تاجکستان میں بدھ کے روز 4.5 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کی اطلاع نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی نے دی ہے۔

نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلہ رات 12 بج کر 47 منٹ (بھارتی معیاری وقت) پر آیا، جس کی گہرائی 170 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز 37.43 شمالی عرض البلد اور 74.58 مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔

نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں بتایا کہ 7 جنوری 2026 کو رات 12:47 بجے تاجکستان میں 4.5 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 170 کلومیٹر تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 28 دسمبر کو بھی تاجکستان میں 4.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

تاجکستان ایک پہاڑی ملک ہے جہاں متنوع جغرافیائی ساخت پائی جاتی ہے اور یہ علاقہ قدرتی آفات کے لیے خاص طور پر حساس سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں زلزلوں کے علاوہ سیلاب، خشک سالی، برفانی تودے، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے جیسے خطرات بھی درپیش رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقے وہ دریا ئی بیسن ہیں جو گلیشیئرز پر انحصار کرتے ہیں اور جہاں پن بجلی اور آبپاشی کے لیے پانی کے وسائل موجود ہیں، اس کے علاوہ نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام اور دور دراز جنگلاتی علاقے بھی خطرات کی زد میں رہتے ہیں۔

عالمی بینک کے کلائمیٹ چینج نالج پورٹل کے مطابق موسمیاتی تبدیلی تاجکستان کی کمزوریوں میں مزید اضافہ کر رہی ہے، کیونکہ اندازہ ہے کہ 2050 تک ملک کے تقریباً 30 فیصد گلیشیئرز ختم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تاجکستان دنیا کے نسبتاً زیادہ الگ تھلگ ممالک میں شامل ہے، جہاں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے بہاؤ اور سیلاب پلوں کو غیر محفوظ اور سڑکوں کو ناقابلِ استعمال بنا دیتے ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں کے حفاظتی بند بھی وقت کے ساتھ کمزور ہو رہے ہیں۔

مزید یہ کہ ناکافی دیکھ بھال اور بار بار قدرتی آفات کا سامنا کرنے کے باعث ملک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بتدریج زبوں حالی کا شکار ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ برائے قدرتی آفات میں کمی اور بحالی کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی یا بحال کی جانے والی تنصیبات کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلی کے خدشات اور مقامی معلومات کو شامل کرنا طویل المدتی مزاحمت کے لیے ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button